نیشنل

مالیگاوں میئر شان ہند نہال احمد کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر ۔ شیو سینا اور بی جے پی چراغ پا

مالیگاوں میئر شان ہند نہال احمد کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر ۔ شیو سینا اور بی جے پی چراغ پا

 

حیدرآباد: مالیگاوں میں اس وقت تنازعہ پیدا ہو گیا جب ڈپٹی میئر شانِ ہند نہال احمد کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگائی گئی،جس پر شیوسینا کے کارپورٹرس نے احتجاج کیا اور بی جے پی نے سخت تنقید کی۔

 

 

یہ تنازعہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب بی جے پی کے ترجمان شہزاد پوناوالانے سوشل میڈیا پر ڈپٹی میئر پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ قومی رہنماؤں کی تصاویر کو چھوڑ کر ٹیپو سلطان کی تصویر لگانا

 

 

بھارت کے معروف شخصیات کی توہین ہے۔ریاست مہاراشٹرا مالیگاوں میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی میئر شان ہند نہال احمد نے ہفتے کے روز کہا کہ 18ویں صدی کے میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کی تصویر ان کے دفتر میں ہی رہے گی۔

 

 

نہال احمد نے اس معاملے میں اپوزیشن کی مخالفت کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ پوناوالا نے الزام لگایا کہ قومی رہنماؤں کی تصاویر کو چھوڑ کر ٹیپو سلطان کی تصویر دکھانا بھارت کے مہاپُرُشوں کی توہین ہے۔شہزاد پوناوالا نے کہا

 

 

“مالیگاوں ڈپٹی میئر نے… ہندو مخالف ٹیپو سلطان کی تصویر لگائی ہے لیکن چھترپتی شیواجی مہاراج، مہاتما گاندھی، بابا صاحب امبیڈکر کی تصاویر غائب ہیں… یہ ہمارے اصلی ہیروز کی بہت بڑی توہین ہے۔”

 

 

اس پورے تنازعے کے دوران نہال احمد نے اپنی سوچ کو سوشلسٹ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم طے کریں کہ ہمارے دفتر میں کون سی تصاویر لگائی جائیں… اگر ملازمین نے کوئی تصویر لگائی ہے

 

 

تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ٹیپو سلطان کی تصویر ہٹانے کے حوالے سے ڈپٹی میئر نے کہا کہ تصویر صرف دفتر کی مرمت کے لیے ہٹائی گئی تھی اور کام مکمل ہونے کے بعد اسے دوبارہ لگایا جائے گا۔

 

 

ٹیپو سلطان کو “شیرِ میسور” کہا جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف چار جنگیں لڑی تھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button