ایران کے لئے آواز اٹھانے والوں کو اترپردیش کے ڈی ایس پی کا سخت پیغام — “جہاز میں بیٹھو اور ایران جا کر لڑو!”
اتر پردیش میں سنبھل کے ایک پولیس عہدیدار کے بیان نے نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہاں تعینات ڈی ایس پی کلدیپ کمار نے امن کمیٹی کی ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ جو لوگ ایران کے لئے یہاں ہمدردی جتا رہے ہیں، اگر اتنی ہی فکر ہے تو جہاز میں بیٹھ کر ایران چلے جائیں۔اور ایران کی طرف سے جنگ کریں .
انہوں نے مزید کہا کہ جھگڑا تو ایران اور اسرائیل کے درمیان ہے، لیکن اس کی “خارش” یہاں کے کچھ لوگوں کو ہو رہی ہے۔ اگر اس معاملے کی وجہ سے ملک میں قانون و نظم متاثر ہوا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس بیان کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور سیاست میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔
کلدیپ کمار اتر پردیش پولیس میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر فائز ہیں اور حساس علاقوں میں قانون و نظم برقرار رکھنے کے لئے سخت رویہ اختیار کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ سنبھل جیسے حساس ضلع میں ان کی تعیناتی بھی اسی وجہ سے مانی جاتی ہے کیونکہ یہاں اکثر مذہبی اور سماجی معاملات کے سبب انتظامیہ کو چوکس رہنا پڑتا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے سبب مقامی سطح پر ممکنہ احتجاج یا نعرہ بازی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ اسی پس منظر میں پولیس نے امن کمیٹی کی میٹنگ بلائی تھی، جہاں ڈی ایس پی نے قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے سخت انتباہ دیا۔
اس معاملے میں اقرا حسن، جو کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ہیں، کا نام بھی بحث میں آگیا۔ انہوں نے ڈی ایس پی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عید امن اور بھائی چارے کا تہوار ہے اور حکومت اصل مسائل حل کرنے کے بجائے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حساس معاملات میں پولیس کو بھی اپنی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کلدیپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈی ایس پی کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں تیز ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ بعض لوگوں نے اسے قانون و نظم کے لیے سخت پیغام قرار دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے متنازع اور اشتعال انگیز بیان بتایا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ اب قومی سطح پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔



