اتر پردیش ۔ خالی مکان میں نماز پڑھنے پر 12 افراد کے خلاف قانونی کاروائی

نئی دہلی: ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی کے ایک گاؤں سے 12 مسلمانوں کے خلاف ایک خالی مکان میں نماز ادا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک مکان کے اندر لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔پولیس کے مطابق یہ “احتیاطی کارروائی” اس اطلاع کے بعد کی گئی
جو محمد گنج گاؤں کے کچھ لوگوں نے دی تھی کہ ایک خالی مکان کو کئی ہفتوں سے مبینہ طور پر “عارضی مدرسہ” کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔امن و امان کی خلاف ورزی سے متعلق دفعات کے تحت چالان کیے گئے
ان 12 افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے انہیں ضمانت مل گئی۔ایس پی (ساؤتھ) انشیکا ورما نے کہا
“کسی بھی نئی مذہبی سرگرمی یا اجتماع کو بغیر اجازت منعقد کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
اگر ایسی سرگرمیاں دوبارہ ہوئیں تو سخت کارروائی کی جائے گی۔”ورما نے لوگوں سے امن اور قانون و امان برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی۔ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ خالی مکان
حنیف نامی شخص کا ہے اور اسے عارضی طور پر جمعہ کی نماز کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کوئی تحریری اجازت یا درست دستاویزات پیش نہیں کر سکے
جس پر انھیں گرفتار کیا گیا۔کانگریس لیڈر ڈاکٹر شما محمد نے 12 افراد کے خلاف پولیس کارروائی پر سوال اٹھائے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا
“اتر پردیش پولیس نے بریلی میں 12 مسلم افراد کو اپنے ہی گھروں میں نماز ادا کرنے پر گرفتار کیا ہے،انہیں کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا؟ انہوں نے کون سا قانون توڑا؟
کیا ریاست میں تمام مجرموں کا خاتمہ ہو چکا ہے کہ اب یوپی پولیس اپنے ہی شہریوں کو ان کے گھروں میں نماز پڑھنے پر خوفزدہ کر رہی ہے؟”



