وندے ماترم نہ پڑھنے پر کانگریس کے دو کونسلرس کے خلاف بلدیہ کے اجلاس میں ہنگامہ – مدھیہ پردیش کے اندور میں واقعہ
اندور: مدھیہ پردیش کے اندور بلدیہ کے بجٹ اجلاس کے دوران کانگریس کی دو خاتونِ کونسلرس نے ’وندے ماترم‘ گانے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجہ میں ایوان میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور یہ تنازعہ مدھیہ پردیش بھر میں موضوعِ بحث بن گیا۔
یہ تنازع اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب کانگریس کونسلرس فوزیہ شیخ اور روبینہ اقبال نے بلدیہ کی کارروائی کے دوران ’وندے ماترم‘ گانے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ اس دوران کشیدگی بڑھنے پر فوزیہ نے بلدیہ چیئرمین کے اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس ہدایت کی قانونی بنیاد کیا ہے، اور مطالبہ کیا کہ وہ قانون یا ضابطہ دکھایا جائے جس کے تحت بلدی ادارے میں اس ترانے کا گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس سوال پر بی جے پی کونسلروں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے قومی جذبات کی توہین قرار دیا۔ نعرے بازی اور تلخ جملوں کے تبادلے کے باعث ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے چیئرمین منا لال یادو نے فوزیہ کو ایوان سے باہر جانے کی ہدایت دی، تاہم تنازعہ یہیں ختم نہیں ہوا۔
ایوان کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے روبینہ اقبال نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ “ہم کسی کی دھونس کو نہیں مانتے، کسی کے باپ کی بھی نہیں۔” انہوں نے اپنے موقف کا دفاع مذہبی بنیادوں پر کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارے اسلامی عقیدے میں ’وندے ماترم‘ گانا ممنوع ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ نہیں گاتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “قرآن کے مطابق ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں، ’وندے‘ کا مطلب پوجا کرنا اور ’ماترم‘ کا مطلب ماں ہے، لہٰذا ہم کسی اور کی عبادت کیوں کریں؟”
روبینہ اقبال نے حکمراں جماعت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “بی جے پی کے کئی ارکان مسلمانوں کو کاروبار کرنے نہیں دیتے، اگر ایسا ہے تو انہیں ایران سے تیل اور گیس کی درآمد بھی بند کر دینی چاہیے۔” انہوں نے اپنی پارٹی قیادت کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “یہ میرا تیسرا دور ہے، لیکن پہلی بار ایسا چیئرمین دیکھا ہے جو مکمل خاموش ہے۔ کانگریس پارٹی مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھتی ہے۔”
انہوں نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ “اگر کانگریس ہمیں پارٹی سے نکالتی ہے تو ہم آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑیں گے اور جیتیں گے، یا پھر اسد الدین اویسی کی پارٹی میں شامل بھی ہو سکتے ہیں۔”



