نیشنل

وارانسی میں کشتی پر سوارِ ہوکر افطار کرنے کے ویڈیو پر ہنگامہ — دریائے گنگا میں ہڈیاں پھینکنے کا الزام، 14 نوجوان گرفتار

اتر پردیش کے وارانسی سے ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے جہاں چند مسلم نوجوانوں کی جانب سے کشتی میں بیٹھ کر افطار کرنے کی وائرل ویڈیو نے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ ویڈیو منظرِ عام پر آتے ہی پولیس نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی شروع کی اور ویڈیو میں نظر آنے والے تمام 14 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

 

اس معاملے میں بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے میٹروپولیٹن صدر رجت جیسوال نے پولیس کو تحریری شکایت دی تھی، جس کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ وارانسی کے کوتوالی تھانے کی پولیس نے 14 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ شکایت کنندہ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد پولیس نے سختی دکھائی۔

 

سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی افطار کی ویڈیو کے مطابق ملزمان نے افطار کے بعد ویڈیو بنا کر اسے آن لائن پوسٹ کیا تھا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد بی جے پی لیڈر نے کچھ نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کروائی، جس پر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

 

اطلاعات کے مطابق ان تمام افراد نے دریائے گنگا کے اندر کشتی میں بیٹھ کر افطار کیا تھا۔ الزام ہے کہ چکن بریانی کھانے کے بعد اس کی ہڈیاں گنگا میں پھینک دی گئیں، جسے مقدس دریا کی بے حرمتی قرار دیا جارہا ہے۔ اس عمل کو ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

 

پولیس نے ملزمان کے خلاف بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں مذہبی جذبات کو دانستہ طور پر مجروح کرنے سے متعلق دفعہ 295A کے علاوہ دیگر دفعات اور آبی آلودگی روک تھام قانون بھی شامل ہیں۔

 

شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ ماں گنگا ہندو عقیدت مندوں کے لئے مقدس ہے اور دنیا بھر سے لوگ یہاں پوجا پاٹھ  کرنے آتے ہیں۔ ایسے میں اس طرح گوشت پھینکنا جان بوجھ کر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش ہے۔ اس واقعہ کے بعد مختلف ہندو تنظیموں نے  شدید غم و غصہ کا اظہار کیا .

متعلقہ خبریں

Back to top button