عالمی شہرت یافتہ شاعر شہنشاہ ترنم طاہر فراز رامپوری کا انتقال

نئی دہلی: اردو غزل کے معتبر اور عوامی لب و لہجے کے شاعر، دبستانِ رامپور کی پہچان اور مشاعروں میں شائستگی و وقار کی علامت عالمی شہرت یافتہ شاعر شہنشاہ ترنم طاہر فراز رامپوری کا کل انتقال ہو گیا۔
ان کے انتقال پر ادبی دنیا، شعر دوست حلقوں اور ان کے چاہنے والوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ طاہر فراز اس وقت ممبئی میں ایک گھریلو تقریب میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے جہاں اتوار کی صبح قلب پر حملہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔
ان کے انتقال کی خبر آج صبح اولین ساعتوں میں عام ہوئی ۔سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سیلاب آ گیا جس میں اہلِ قلم، صحافی، شعرا اور عام قارئین سبھی نے اپنے غم اور عقیدت کا اظہار کیا۔طاہر فراز کی اہمیت محض اس بات میں نہیں تھی
کہ وہ مشاعروں کے مقبول شاعر تھے بلکہ اس میں تھی کہ ان کی گُفتگو براہِ راست عوام سے تھی۔ ان کا لہجہ نہایت سادہ، رواں اور قابلِ فہم تھا اس حد تک کہ ایک عام ذہنی سطح کا شخص
بھی ان کی شاعری سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔ وہ کم لفظوں میں گہری بات کہنے کا ہنر جانتے تھے ۔



