نیشنل

لو جہاد معاملہ میں نوجوان کو عدالت سے ملی راحت۔ پیسے واپس مانگنے پر خاتون نے جھوٹا الزام لگا کر جیل بھجوادیا تھا

نئی دہلی: لو جہاد کے ایک فرضی معاملہ میں آج اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو عدالت سے راحت ملی جس نے کئی ماہ تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ بھوپال کی خصوصی عدالت نے آج ملزم ساحل خان کو لو جہاد سے جڑے سبھی الزامات سے بری کر دیا۔

 

ساحل اس معاملے میں تقریباً 9 ماہ 22 دن تک عدالتی حراست میں قید رہا۔معاملہ بھوپال کے جہانگیر آباد کا ہے۔ اس مقدمہ کی سماعت خصوصی جج جسٹس راجرشی شریواستو کی عدالت میں ہوئی۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ شکایت کنندہ اور ملزم کے درمیان پہلے سے ہی مالی لین دین والا رشتہ تھا یہ ’لو جہاد‘ کے لیے دھوکہ کا معاملہ نہیں ہے۔

 

دراصل شکایت کنندہ خاتون نے پولیس میں تحریری شکایت درج کروائی تھی کہ ساحل نے اپنا اصل نام چھپا کر خود کو راہل بتایا۔ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان بات چیت کی ابتدا سوشل میڈیا اور میسجنگ کے ذریعہ ہوئی تھی۔ بعد میں ساحل نے شادی کا وعدہ کر اسے اپنے گھر لے جانے کی بات کہی۔

 

خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ جب وہ ساحل کے ساتھ جہانگیر آباد واقع اس کے گھر پہنچی تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد ساحل نے شادی کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیے۔ خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ واقعہ دسمبر 2020 سے 2024 کے درمیان کا ہے جب اس معاملہ کی سماعت عدالت میں ہوئی تو شکایت دہندہ خاتون نے اعتراف کیا کہ ساحل اور اس کے درمیان معاشی لین دین ہوتا تھا۔ اس نے بیان میں کہا کہ جب بھی اسے پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی ساحل اس کی مدد کرتا تھا۔

 

خاتون کے مطابق ساحل نے اسے مجموعی طور پر تقریباً 12 ہزار روپے دیے تھے۔ عدالت نے اس بات کو اہم تصور کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ جب ساحل نے پیسے واپس مانگے تب دونوں کے درمیان تنازعہ شروع ہوا۔ عدالت نے یہ بھی مانا کہ اسی تنازعہ کے بعد ساحل کے خلاف معاملہ درج کروایا گیا۔خصوصی جج نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ معاملہ پیش کیے گئے ثبوت اور بیانات الزامات کی تصدیق کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

 

ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ صرف الزامات کی بنیاد پر کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جب تک کہ انھیں ٹھوس ثبوتوں سے ثابت نہ کیا جائے۔ سبھی دلیلوں گواہوں کے بیانات اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ساحل خان کو ’لو جہاد‘ اور عصمت ریزی کے الزامات سے بری کر دیا۔

 

9 ماہ سے زائد مدت تک جیل میں رہنے کے بعد اب ساحل کو عدالت کی طرف سے راحت ملی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button