این آر آئی

ریاض میں کتاب “خوشی:جینے کا ایک طریقہ ” کی پروقار تقریبِ رونمائی، VCEO کا سہ ماہی ایونٹ کا انعقاد۔

مجیدعارف نظام آبادی کی رپورٹ 

 

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں یکم اپریل کی شام اولیا میں کتاب “خوشی: جینے کا سلیقہ ” کی شاندار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس کے ساتھ VCEO کا سہ ماہی پروگرام بھی بھرپور انداز میں منعقد کیا گیا۔اس باوقار موقع پر ہندوستان پاکستان، سعودی عرب سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے شرکت کی اور تقریب کو بے حد سراہا۔ شرکاء نے اس اقدام کو نہایت مثبت قرار دیتے ہوئے اس کے معاشرے پر خوشگوار اثرات کی تعریف کی۔

 

تقریب کے دوران مقررین نے کتاب کے موضوع کو موجودہ دور کی اہم ضرورت قرار دیا، جہاں ذہنی دباؤ اور بے چینی عام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تصنیف محض رہنمائی نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات پیش کرتی ہے، جو انسان کو متوازن اور پُرسکون زندگی گزارنے کے اصول فراہم کرتی ہے۔

 

یہ بھی بتایا گیا کہ بچوں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا ہے اور اس سے مثبت انداز میں سیکھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی سوچ، رویوں اور عادات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔تقریب میں ایک خصوصی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں بچوں سے لے کر ہر عمر کے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ اس سیشن میں مختلف دلچسپ اور فکر انگیز سوالات پوچھے گئے۔یاسمین خرم نے سوال کیا کہ “زندگی کے سات پہلو (Seven Planets of Life) جنہیں متوازن رکھنا ضروری ہے، یہ تصور کہاں سے آیا؟” اس کے جواب میں بتایا گیا کہ یہ تصور مسلسل سیکھنے (Life-long Learning) کا نتیجہ ہے۔ ماضی میں کنگ سعود یونیورسٹی (KSU) میں ہفتہ وار پریزنٹیشنز کی روایت تھی، جہاں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی

 

، انہی مباحثوں میں خوشگوار زندگی کے لیے سات توازن کا تصور سامنے آیا، جو 2008 یا 2009 کا دور تھا۔حمزہ احمد نے سوال کیا کہ “اسی موضوع پر کتاب کیوں لکھی گئی، جبکہ دیگر موضوعات پر بھی کام کیا جا سکتا تھا؟” اس کا جواب دیا گیا کہ یہ موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔ آج کے حالات میں لوگوں کو ایسی رہنمائی درکار ہے جس کے ذریعے وہ اپنی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگی میں خوشی پیدا کر سکیں، جبکہ بزنس کنٹینیوٹی، پراجیکٹ مینجمنٹ اور کرائسز مینجمنٹ جیسے موضوعات اگرچہ مہارت کا حصہ ہیں، لیکن اس وقت ترجیح خوشحال زندگی کے اصولوں کو اجاگر کرنا ہے۔ایک بچی مریم عدنان نے مزاحیہ انداز میں سوال کیا کہ “آپ بچپن میں کیا کرتے تھے؟” اس پر جواب دیا گیا کہ ہم بھی شرارتیں کرتے تھے،

 

لیکن اتنی نہیں کہ زیادہ ڈانٹ یا مار پڑے۔ اس جواب نے محفل میں خوشگوار ماحول پیدا کر دیا۔تقریب میں VCEO کے تعلیمی اقدامات کو بھی سراہا گیا، جن کے تحت سال بھر مختلف سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں اور بچوں میں مطالعہ کا رجحان فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں کتابوں کی فراہمی، مختلف ٹاسکس اور ماہانہ و سہ ماہی انعامات کے ذریعے نئی نسل کی ذہنی اور تعلیمی صلاحیتوں کو نکھارا جا رہا ہے۔مزید برآں “Creative Work Appreciation” سیشن کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے بامقصد پروگرامز معاشرتی بہتری اور شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 

تقریب میں نمایاں شخصیات میں عدنان رفیق احمد، میاں محمد اکرم، اعجاز الرائے، نزار الترکی، سعود السہلی، کرنل عرفان، مسعود خان، محمد انصر، خرم منصور، راسب زاہد اور ارسلان وارث ‘راحیل اعظمی ‘زین العابدین ‘مجیدعارف نظام آبادی تھے۔اختتام پر مہمانوں نے منتظمین کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ایسے مثبت اور تعمیری پروگرامز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ معاشرے میں مثبت سوچ اور آگاہی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button