اسپشل اسٹوری

پٹرول سے متعلق متضاد اطلاعات عوام میں تشویش 

حیدرآباد 25 مارچ (اردو لیکس) پٹرول کی قلت سے متعلق مرکزی حکومت ہو یا تلنگانہ حکومت یا تلنگانہ حکومت کے عہدہ داران اور پولیس افسران بار بار عوام کو یہ تسلی دے رہے ہیں کہ پٹرول کی کوئی قلت نہیں ہے لیکن شہر حیدرآباد میں گزشتہ تین دن سے پٹرول کی قلت واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے

 

کئی پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں ہیں اور پیٹرول کے ضرورت مندوں کو صرف ایک لیٹر ہی پٹرول ملنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور کئی پٹرول پمپس آج چہار شنبہ 25 مارچ کو بند بھی دیکھے گئے 24 مارچ کی رات دیر گئے تک پٹرول پمپس پر طویل قطاریں دیکھی گئیں اور 25 مارچ کو تو شہر حیدرآباد اور سکندر آباد کے کئی پٹرول پمپس بند دیکھے گئے۔

 

عوام پہلے ہی سے پکوان گیس کی قلت سے پریشان ہیں تو دوسری طرف پٹرول کی قلت اور پٹرول پمپس پر لمبی قطاروں نے عوام کی تشویش اور اندیشوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے آج صبح سے بند بعض پٹرول پمپس کو دوپہر میں کھولا گیا جہاں پھرسے پٹرول کے ضرورت مندوں کی طویل قطاریں دیکھی گئی۔

 

 

اسی دوران تلنگانہ پٹرولیم ڈیلرس اسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں ایندھن کی قلت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں مکمل طور پر غلط ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے پٹرول پمپس پر ایندھن کی کمی کی افواہیں سوشل میڈیا پر گشت کررہی ہیں جس پر اسوسی ایشن نے فوری طور پر بیان جاری کیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ HPCL، IOCL اور BPCL کمپنیوں کے پاس ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور ریاست کے تمام پیٹرول پمپس پر ایندھن بلا تعطل دستیاب ہے۔

 

اسوسی ایشن نے یہ بھی کہا کہ شدید ہجوم کی وجہ سے بعض پمپس پر وقتی طور پر ایندھن کی کمی ہو سکتی ہے لیکن اسے ایندھن کی حقیقی قلت نہ سمجھا جائے۔صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور بلاوجہ پریشان نہ ہوں۔

 

مزید کہا گیا کہ ایندھن کے خوف سے لوگ پمپس پر قطاریں لگا رہے ہیں اور قبل از وقت خریداری کر رہے ہیں جس کے سبب وقتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button