مسلسل ٹریفک کیمروں کے ذریعے نگرانی، فون نیٹ ورک پر نظر ۔ ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کی سازش کا سنسنی خیز انکشاف

نئی دہلی: امریکہ-اسرائیل حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق چند برس قبل ہی سپریم لیڈر کو اپنے ہدف میں شامل کرنے والے اسرائیل نے اُن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایران کے ٹریفک کیمرا نیٹ ورک اور موبائل فون سسٹمز کو ہیک کیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ دارالحکومت تہران کے تمام ٹریفک کیمرے برسوں تک ہیک کیے گئے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس سے وابستہ سابق اہلکاروں نے انکشاف کیا کہ حاصل شدہ فوٹیج کو باقاعدگی سے انکرپٹ کر کے اسرائیل منتقل کیا جاتا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کی روزمرہ سرگرمیوں، سیکیورٹی عملے کی گاڑیوں کی پارکنگ اور دیگر امور پر نتن یاہو حکومت مسلسل نگرانی کرتی رہی۔
خامنہ ای کہاں رہتے ہیں، کن افراد سے ملاقات کرتے ہیں، کس طرح رابطہ کرتے ہیں اور کسی خطرے کی صورت میں کہاں منتقل ہوتے ہیں ان تمام پہلوؤں کا امریکہ اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں نے باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اُن سے ملاقات کرنے والے سیاسی اور عسکری اعلیٰ حکام کی بھی نگرانی کی گئی۔ذرائع کے مطابق جمع کی گئی معلومات کو منظم کرنے کے لیے اسرائیل نے جدید اے آئی ٹولز اور الگورتھمز کا استعمال کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ 28 فروری کو خامنہ ای کو نشانہ بنانے میں بھی یہی ڈیٹا کلیدی ثابت ہوا۔ایران میں ہر جمعہ کو سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔ خامنہ ای ہر ہفتے کے آغاز (ہفتہ) کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر اہم سرکاری اور عسکری حکام کے ساتھ جائزہ اجلاس کرتے تھے۔ اسرائیل کو اطلاع ملی کہ تہران کے وسط میں واقع ایک سرکاری مقام پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوگا جس کے بعد حملہ کیا گیا۔
اس کارروائی میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی فراہم کردہ معلومات بھی اہم بتائی جا رہی ہیں۔دوسری جانب یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ہفتے کے روز اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کیے گئے مشترکہ آپریشن کے دوران ایران پر سائبر حملے بھی کیے گئے۔ اہم بنیادی ڈھانچے، سیکیورٹی کمیونیکیشن سسٹمز اور سرکاری میڈیا اداروں کی ویب سائٹس ہیک کر دی گئیں
جس کے باعث انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی متاثر ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق یہ سائبر حملہ ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو کمزور کرنے کے مقصد سے کیا گیا۔



