مردہ خاتون کے دوبارہ زندہ ہونے کا یقین۔ خاندان نے نعش کے ساتھ 4 دن گزرے۔ حیدرآباد میں توہم پرستی کا افسوسناک واقعہ

حیدرآباد: حیدرآباد کے ایک فلیٹ میں پیش آنے والا عجیب و غریب واقعہ نہ صرف چونکا دینے والا تھا بلکہ اس نے توہم پرستی اور اندھے عقیدے پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے کیونکہ ایک خاندان نے متوفیہ کے دوبارہ زندہ ہونے کا یقین کرتے ہوئے نعش کے ساتھ چار دن گزارے۔
آندھرا پردیش کے ضلع مغربی گوداوری کے کائیکالورو سے تعلق رکھنے والے ایک سابق پولیس افسر کے دیہانت کے بعد ان کا خاندان حیدرآباد منتقل ہوگیا۔ ان کی بیوی شامنتا کامانی اپنے بیٹے جئے رام اور بیٹیوں سنیتا اور شائلجا (45) سال کے ساتھ حیدرآباد کے کوکٹ پلی علاقے
کی رام کرشنا کالونی میں واقع سری سائی بھردواج اپارٹمنٹ کی تیسری منزل پر رہائش پذیر ہیں۔بہن بھائیوں میں سے کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی۔ اسی دوران 45 سالہ شائلجا کچھ عرصے سے علیل تھیں اور مقامی ہاسپٹل میں زیرِ علاج تھیں۔ جمعہ کے روز وہ دورانِ علاج فوت ہوگئی۔
لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ ارکان خاندان نعش کو گھر لے آئے فریزر منگوا کر نعش کو اس میں رکھ دیا اور گھر کے دروازے اندر سے بند کر لیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر مسلسل چار دن تک خصوصی دعائیہ سے یسوح مسیح مردہ کو زندہ کر دیں گے۔
تین دن تک فلیٹ کے دروازے بند رہے۔اتوار کی رات جب فلیٹ سے بدبو پھیلنے لگی تو پڑوسیوں کو تشویش ہوئی اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔پولیس جب موقع پر پہنچی تو اس خادان نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔ ان کا اصرار تھا کہ دعائیہ اجتماع کا عمل مکمل ہونے دیا جائے کیونکہ چار دن پورے ہونے پر ان کی بیٹی دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔
بالآخر حکام کی مداخلت اور قانونی کارروائی کے انتباہ کے بعد دروازہ کھولا گیا۔ فریزر میں رکھی نعش مسخ ہوچکی تھی جبکہ مرنے والی غیر شادہ شدہ خاتون کی ماں، بھائی اور بہن نعش کے پاس بیٹھے کچھ پڑھ رہے تھے۔
ہاسپٹل کے مطابق متوفیہ کو قبل از مرگ خون کی شدید کمی تھی اور ڈاکٹروں نے خون چڑھانے کا مشورہ دیا تھا لیکن اس کے گھروالوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ صرف “پاک” خون ہی دیا جائے جو ممکن نہ ہو سکا۔
توہم پرستی اور غیر سائنسی تصورات نہ صرف علاج میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ بعض اوقات حقیقت کو قبول کرنے کی صلاحیت بھی سلب کر لیتے ہیں۔



