کسان کا بیٹا بنا آئی اے ایس آفیسر، یوپی ایس سی میں عظیم احمد کی شاندار کامیابی

نئی دہلی: حوصلے بلند ہوں تو کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے اس کا منہ بولتا ثبوت ثبوت اترپردیش میں نگینہ تحصیل کے نگلہ گاؤں کے رہنے والے عظیم احمد ہیں۔ انھوں نے اپنی محنت اور لگن سے ملک کے سب سے باوقار مسابقتی امتحانات میں سے ایک یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے 2025 میں ہوئے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔
عظیم احمد کی جانب سے یوپی ایس سی کے امتحان میں 588 ویں رینک حاصل کرنے اور شاندار کامیابی پر خاندان اورعلاقے میں زبردست خوشی کی لہردوڑ گئی ہے۔ یوپی ایس سی کے نتائج کا جمعہ کے روز جیسے ہی اعلان ہوا اورعظیم کی کامیابی کی خبر گاؤں تک پہنچی، ان کے گھر مبارکباد دینے والوں کی لائن لگ گئی عظیم کا خاندان معمولی معاشی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔
ان کے والد گاؤں میں گڑ بنانے کے لیے کولہو چلاتے ہیں اور کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔ اس کی والدہ گھریلو خاتون ہیں اور خاندان کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ عظیم 4 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں اس لیے خاندان کو ہمیشہ اس سے خاص توقعات وابستہ رہی ہیں۔ عظیم نے اپنی ابتدائی تعلیم نگینہ دیہی علاقے کے آر آر مرارکا اسکول میں حاصل کی جہاں سے اس نے ہائی اسکول مکمل کیا۔
اس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے کوٹہ چلا گیا، وہاں 11ویں اور 12ویں کی تعلیم مکمل کی۔اسکول کی پڑھائی کے بعد عظیم احمد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ٹیک کیا۔ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران اس نے سول سروسز میں حصہ لینے کا عزم کیا تھا۔ اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ علی گڑھ میں رہے اور تقریباً 6 سال تک انتھک محنت کرتے ہوئے
یوپی ایس سی کی تیاری کرتے رہے۔ عظیم کی یہ تیسری کوشش تھی جس میں وہ کامیاب ہوئے۔



