اسپشل اسٹوری

خامنہ ای کو ہلاک کرنے کا امریکی، اسرائیلی مشن کیسے مکمل ہوا؟

نئی دہلی ۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا منصوبہ کئی مہینہ پہلے بنایا گیا تھا اور خفیہ اطلاع ملتے ہی اپنا مشن پورا کردیا۔ اس سلسلے میں بی بی سی نے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔

 

بی بی سی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کو ہلاک کرنے کی غرض سے کیا گیا حملہ رات کی تاریکی  میں نہیں ہوا۔ اندازوں کے برعکس یہ حملہ دن  کے اجالے میں ہوا۔صبح کی روشنی میں حملے کرنے کی وجہ وہ اہم خفیہ اطلاع تھی جو امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس کو چند گھنٹے قبل ہی موصول ہوئی تھی۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس نے رات ہونے کا انتظار کیے بغیر اس خفیہ اطلاع کا فوری فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

 

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ اس موقع کی تلاش میں تھے کہ کب اعلیٰ ایرانی حکام کسی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہوں گے۔ خفیہ اطلاع یہ تھی کہ سید علی خامنہ ای ہفتہ کی صبح تہران کے مرکزی علاقے میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں موجود ہوں گے۔

 

خامنہ ای کی کمپاؤنڈ میں موجودگی کی اطلاع کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اور امریکی انٹیلیجنس کو اس مقام کا بھی پتہ چل گیا تھا جہاں اُسی وقت دیگر ایرانی اعلیٰ فوجی اور خفیہ اداروں کے افسران کو اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہونا تھا۔

 

امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ سے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات خفیہ رکھی گئی کہ اُن پر نظر رکھنے کا طریقہ کار کیا گیا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔

 

ٹرمپ نے لکھا کہ ’وہ (خامنہ ای) ہماری انٹیلیجنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے۔‘یہ ممکن ہے کہ ایران میں موجود کوئی انسانی ذریعہ اُن کی نقل و حرکت کی اطلاع دے رہا ہو تاہم زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اہم ایرانی عہدے داروں کی تکنیکی بنیادوں پر نگرانی کی جا رہی تھی۔

 

گذشتہ سال جون میں ہونے والی ایران، اسرائیل 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک سائنسدانوں اور اعلیٰ حکام کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور بعدازاں بتایا گیا کہ اِن اہم افراد کی نقل و حرکت جاننے کے لیے ٹیلی کام اور موبائل فون سسٹمز تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔

 

اس عمل کے دوران اُن محافظوں یعنی باڈی گارڈز کی نقل و حرکت کو بھی ٹریک کیا گیا جو اہم ایرانی حکام کی سکیورٹی پر معمور تھے۔یوں طویل عرصے تک کی جانے والی نگرانی اور جانچ کا طریقہ کار اختیار کرنے کی مدد سے اہم شخصیات کی طرزِ زندگی اور روٹین کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ اس طریقہ کار کی مدد سے (اپنے ہدف کی) سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی کے ساتھ اُن کی کمزوری کے لمحات (وہ مواقع جب سکیورٹی زیادہ نہیں ہوتی) بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔

 

ایران کو علم تھا کہ رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای دشمنوں کے نشانے پر ہیں لہٰذا اُن کی حفاظت کو یقینی بنانے کے عمل کے دوران کمزوری کے لمحات کا تعین کر کے اُن سے نمٹنے میں ناکامی ایرانی سکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کی ایک بڑی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اہداف کی نشاندہی  اپنے طریقے بدلتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ٹریک کرنے کے نئے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔

 

ایرانیوں نے شاید یہ بھی اندازہ بھی لگایا ہو گا کہ اس نوعیت کا اہم حملہ دن کے اوقات میں نہیں ہو سکتا۔ بشکریہ بی بی سی اردو

 

متعلقہ خبریں

Back to top button