اسپشل اسٹوری

"شادی کا دعوت نامہ یا دھوکہ؟ عوام چوکس رہیں

حیدرآباد: مہاراشٹرا کے ہنگولی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو عجیب و غریب طریقہ سے ٹھگ لیا گیا۔ 30 اگست کی ایک صبح ہنگولی کے ایک سرکاری ملازم کے واٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا۔ پیغام میں ایک شادی کا دعوت نامہ تھا بڑی محبت سے لکھا گیا جیسے کوئی قریبی رشتہ دار یا پرانا دوست ہو۔ ساتھ ایک فائل بھی تھی  جس پر "Wedding Invitation” درج تھا۔

 

ملازم صاحب نے سوچا شاید کسی عزیز کی خوشی کی خبر ہے جیسے ہی انہوں نے فائل پر کلک کیا ان کے فون میں ایک ایپ انسٹال ہو گیا،مگر یہ کوئی عام ایپ نہیں تھی یہ ایک اے پی کے فائل تھی، جو ان کے موبائل کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر چکی تھی۔

 

چند ہی لمحوں میں، ان کے بینک اکاؤنٹ سے ایک لاکھ 90 ہزار روپے‌غائب ہو چکے تھے۔ ان کے ہوش اُڑ گئے، اور فوراً انہوں نے ہنگولی پولیس سے شکایت درج کروائی۔تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں تھا۔ ملک بھر میں لوگ "ویڈنگ انوائٹ اسکام” کے جال میں پھنس رہے ہیں جہاں سائبر مجرم فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر فرضی دعوت نامے، ویڈیو لنکس یا ڈاکیومنٹس بھیجتے ہیں۔ یہ تمام فائلز دراصل خطرناک سافٹ ویئرز ہوتے ہیں جو فون کی گیلری، میسیجز اور بینکنگ ایپس تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

 

پولیس نے شہریوں کو سختی سے خبردار کیا ہے "کسی اجنبی کی بھیجی گئی پی ڈی ایف، ویڈیو یا اے پی کے فائل کو کبھی نہ کھولیں خاص طور پر شادی کے دعوت نامے کی شکل میں۔”یہ اے پی کے فائلز کھولنے سے پہلے فون کی اسکرین پر ایک وارننگ بھی آتی ہے کہ "یہ فائل خطرناک ہو سکتی ہے”مگر بیشتر لوگ اس انتباہ کو نظرانداز کر دیتے ہیں،اور نتیجہ ہوتا ہے اُن کی محنت کی کمائی کا صفایا ہوجاتا ہے۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ صرف شناسا افراد کی بھیجی گئی فائلز پر ہی بھروسہ کریں اور کبھی بھی کسی اجنبی لنک یا فائل کو ڈاؤن لوڈ نہ کریں کیونکہ اس شادی کے دعوت نامے کے پیچھے چھپا ہو سکتا ہے ایک بڑا دھوکہ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button