اسپشل اسٹوری

آیت اللہ خامنہ کا کرناٹک کے اس گاوں سے کیا تھا رشتہ۔ پورا گاوں غمزدہ، 3 دن سوگ کا اعلان،دکانیں اور تجارتی ادارے بند ،ہر قسم کی تقریبات اور عوامی اجتماعات منسوخ

بنگالورو: امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں ان کے حامی شدید صدمہ میں ہیں۔ ہندوستان میں بھی مختلف علاقوں میں ان کے حامی یکجہتی ریلیاں نکال رہے ہیں۔

 

اسی سلسلے میں کرناٹک کے ایک گاؤں میں بھی سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقریباً چالیس سال قبل خامنہ ای نے اس گاؤں کا دورہ کیا تھا۔چکا بلا پورہ ضلع کے علی پور کی آبادی تقریباً 30 ہزار ہے جن میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ اسی وجہ سے اسے "منی ایران” بھی کہا جاتا ہے۔

 

1986 میں خامنہ ای کے دورۂ بھارت کے دوران گاؤں والوں کی دعوت پر انہوں نے علی پور کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے مقامی لوگوں اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ بعد ازاں ان کے اعزاز میں وہاں ایک مقامی ہاسپٹل تعمیر کیا گیا۔

 

مقامی افراد کے مطابق اس دورے کے بعد گاؤں کے ایران کے ساتھ مضبوط ثقافتی تعلقات قائم ہوئے۔ کئی خاندان اعلیٰ تعلیم کے لیے ایران گئے جبکہ بعض افراد وہاں ملازمت اختیار کر کے مستقل طور پر مقیم ہو گئے۔حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر سے علی پور کے رہائشی

 

شدید صدمے میں ہیں۔ ان کی مغفرت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر لوگ انہیں یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے۔ گاؤں میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا۔ دکانیں اور تجارتی ادارے رضاکارانہ طور پر بند رکھے گئے جبکہ ہر قسم کی تقریبات اور عوامی اجتماعات منسوخ کر دیے گئے۔

 

اسی طرح بھارت کے دورے کے دوران خامنہ ای نے کشمیر کا بھی دورہ کیا تھا۔ سری نگر میں منعقدہ ایک اجلاس میں انہوں نے خطاب کیا تھا۔ مقامی مسلم حلقوں کا ماننا ہے کہ ان کی 15 منٹ کی تقریر نے وہاں نمایاں تبدیلی پیدا کی تھی۔

 

جب خامنہ ای نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو اس وقت انہوں نے ایران کی باگ ڈور سنبھالی نہیں تھی۔ تاہم اطلاعات کے مطابق 2012 میں اُس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے تہران دورے کے موقع پر سپریم لیڈر خامنہ ای نے اپنے دورۂ بھارت کو یاد کیا تھا۔

(ایران کے سپریم لیڈر کی موضع میں آمد کے وقت لی گئی تصویر)

متعلقہ خبریں

Back to top button