نہ انجینئر، نہ بڑی ڈگری… پھر بھی کمال کردیا – بہار کے مکینک مرشد عالم نے ایک لاکھ میں الیکٹرک جیپ تیار کر ڈالی

پٹنہ _. بہار کے اس نوجوان نے انجینئرنگ جیسی بڑی تعلیم حاصل نہیں کی، بلکہ وہ گاڑیوں کی مرمت کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتا ہے۔ تاہم اپنی ذہانت اور ہنر کے بل پر اس نے ایک الیکٹرک جیپ تیار کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس جیپ کی تیاری پر اس نے صرف ایک لاکھ روپے خرچ کئے۔ یہ واقعہ بہار کے ضلع پورنیہ کا ہے۔
مرشد عالم گاڑیوں کی مرمت کر کے اپنا گزر بسر کرتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ دیہی علاقوں میں کسانوں اور چھوٹے کاروباریوں کو مناسب آمد و رفت کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی مسئلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے کم خرچ میں تیار ہونے والی گاڑی بنانے کا فیصلہ کیا۔
مرشد عالم کا ماننا تھا کہ دیہاتیوں اور کسانوں کی ضروریات کے لئے ایک الیکٹرک گاڑی نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت اس نے صرف 18 دنوں میں ٹیوب لیس ٹائرس، اسپیڈو میٹر، پاور اسٹیئرنگ اور چارجنگ پوائنٹ سے لیس ایک الیکٹرک جیپ تیار کی، جس پر کل ایک لاکھ روپے خرچ ہوئے۔
اس الیکٹرک جیپ میں پانچ نشستیں ہیں، سامنے دو اور پیچھے تین افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ جیپ چلا کر اس نے سب کو متاثر کیا۔ مرشد عالم کے مطابق بیٹری کو مکمل طور پر چارج ہونے میں تقریباً پانچ گھنٹے لگتے ہیں، جس کے بعد یہ جیپ بغیر کسی دشواری کے تقریباً 100 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کسان اپنی فصل، کھاد اور دیگر سامان لے جانے کے لئے اس منی الیکٹرک جیپ کے ساتھ ایک اضافی ٹرالی بھی جوڑ سکتے ہیں، جس سے یہ گاڑی دیہی علاقوں میں خاصی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔



