سرکاری بلڈوزر گرایا گھر، مگر انسانیت نے کھڑا کردیا — جموں میں ہندو بھائی نے بے گھر مسلم صحافی کو زمین دے کر اتحاد کی نئی مثال قائم کردی

جموں کے ناروال میں صحافی ارفاز احمد ڈینگ کے مکان کو ضلع انتظامیہ نے غیر مجاز تعمیر قرار دیتے ہوئے جمعرات کو زمین دوز کردیا
۔ اس واقعہ سے پیدا ہونے والے غم و غصے کے ماحول میں ہندو-مسلم اتحاد کی شاندار مثال سامنے آئی جب مقامی ہندو اور ڈوگرا برادری سے تعلق رکھنے والے کلدیپ کمار شرما نے بے گھر ہونے والے ارفاز کو اپنی پانچ مرلہ زمین تحفے میں دینے کا اعلان کیا اور میڈیا کے سامنے کاغذات ان کے حوالے کروائے۔
کلدیپ شرما ارفاز کو گلے لگاتے ہوئے رو پڑے اور کہا کہ وہ اپنے “بھائی کو سڑکوں پر نہیں رہنے دیں گے‘‘ — یہ منظر دیکھ کر دونوں خاندانوں کے افراد بھی آبدیدہ ہوگئے۔ ارفاز، جن کا گھر بغیر نوٹس گرایا گیا اور جو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوگئے تھے،
شرما کے اس قدم سے جذباتی ہوگئے اور اسے “اندھیرے میں امید کی کرن‘‘ قرار دیا۔ کلدیپ شرما کے اس اقدام کو سوشل میڈیا اور جموں و کشمیر بھر میں غیر معمولی پذیرائی ملی اور شہریوں نے اسے ہندو-مسلم بھائی چارے کی عظیم روایت اور ’’انسانیت کی جیت‘‘ قرار دیا۔
کلدیپ کے اس عمل نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ خطے میں مذہب اور شناخت سے بڑھ کر انسانیت اور محبت کی قدر کی جاتی ہے اور مشکل وقت میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔



