انسانیت کی روشن مثال: 66 برس ایک ہندو خاندان کے ساتھ گزارنے والے چمن میاں کی میت کو سکسینہ خاندان کے ارکان نے کاندھا دیا اور سپردِ خاک کیا
اتر پردیش کے ضلع ایٹا کے مراہرہ گاوں میں 75 سالہ چمن میاں کی زندگی انسانیت اور بھائی چارے کی ایک منفرد مثال بن کر سامنے آئی۔ چمن میاں نے اپنی زندگی کے 66 برس شاردہ سکسینہ کے خاندان کے ساتھ گزارے، جہاں انہیں بچپن ہی سے اپنے فردِ خاندان کی طرح پالا گیا۔
تفصیلات کے مطابق شاردہ سکسینہ نے چمن میاں کو صرف 10 سال کی عمر میں اپنے پاس رکھا اور ان کی پرورش کی، جس کے بعد وہ اسی خاندان کا حصہ بن گئے۔ شاردہ سکسینہ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ڈاکٹر ومل چندر سکسینہ نے بھی چمن میاں کو وہی مقام دیا۔ بعد ازاں 2018 میں ڈاکٹر ومل سکسینہ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ڈاکٹر سبودھ سکسینہ نے بھی چمن میاں کو خاندان کے بزرگ رکن کے طور پر عزت دی۔
گزشتہ روز چمن میاں نے اسی سکسینہ خاندان کے گھر میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کے بعد سکسینہ خاندان نے تمام مذہبی رسومات کا اہتمام کرتے ہوئے انہیں ان کے مذہب کے مطابق سپردِ خاک کیا۔
نمازِ ظہر کے بعد چمن میاں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں سکسینہ خاندان کے افراد ڈاکٹر سبودھ سکسینہ، امیت سکسینہ، سمیت سکسینہ کے علاوہ دیگر برادریوں کے افراد نے بھی شرکت کی۔ جنازے کو سکسینہ خاندان کے افراد نے اپنے کندھوں پر اٹھا کر قبرستان تک پہنچایا، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر سبودھ سکسینہ نے بڑے بیٹے کا فرض ادا کرتے ہوئے سب سے پہلے قبر میں مٹی ڈالی، جس کے بعد دیگر افراد نے بھی مٹی ڈالی۔ ان کی آخری رسومات میں سینکڑوں کی تعداد میں ہندو اور مسلم افراد شریک ہوئے۔
چمن میاں کی زندگی اور ان کی تدفین اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ انسانیت، مذہب سے بالاتر ہو کر بھی قائم رہ سکتی ہے۔ ایسے واقعات معاشرے میں بھائی چارے اور باہمی احترام کی مضبوط بنیادوں کو ظاہر کرتے ہیں، جو ہر قسم کی نفرت اور تقسیم کے بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔



