اسپشل اسٹوری

ایرانی میزائلوں کی گھن گرج میں اسرائیلی عوام کی زندگی بنکروں میں قید – جنگ نے اسرائیلی عوام سے معمول کی زندگی چھین لی

ایران کے حملوں کے درمیان اسرائیلی عوام کی زندگی بنکروں تک محدود، شدید ذہنی دباؤ کا سامنا

 

یروشلم: جاری جنگ کے دوران ایران کی جانب سے مسلسل میزائل حملوں نے اسرائیلی شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ لگاتار حملوں کے باعث بڑی تعداد میں لوگ گزشتہ ایک ماہ سے بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، جہاں وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

 

اطلاعات کے مطابق کئی شہریوں کیلئے کھانا، سونا اور روزمرہ کی تمام ضروریات بنکروں تک محدود ہو چکی ہیں۔ کچھ لوگ جو باہر نکلتے بھی ہیں، سائرن بجتے ہی دوبارہ فوری طور پر شیلٹرز کی جانب دوڑ پڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ شادیاں، سالگرہ اور دیگر تقاریب بھی اب بنکروں میں ہی منعقد کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ یہ مضبوط کنکریٹ ڈھانچے جانوں کے تحفظ کا ذریعہ بن رہے ہیں، لیکن سماجی اور ذہنی طور پر شہری شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

 

اسرائیل میں ان محفوظ کمروں کو ’مَماڈ‘ کہا جاتا ہے۔ 1992 کے بعد تعمیر ہونے والے ہر گھر میں ایسے ایک محفوظ کمرے کی موجودگی لازمی ہے، جو عام حالات میں بیڈروم یا دفتر کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لیکن جنگ کے دوران بم شیلٹر بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے عوام کیلئے بڑے پیمانے پر اجتماعی بنکرز بھی قائم کئے ہیں، تاکہ ہنگامی حالات میں فوری پناہ حاصل کی جا سکے۔

 

سائرن بجنے کے بعد شہریوں کے پاس محفوظ مقام تک پہنچنے کیلئے صرف 15 سے 90 سیکنڈ کا وقت ہوتا ہے، اسی لئے وہ ہر وقت چوکس رہتے ہیں۔ چاہے وہ سو رہے ہوں یا نہا رہے ہوں، سائرن سنتے ہی فوراً بنکروں کی طرف دوڑ لگاتے ہیں۔

 

شہری اپنے بنکروں میں ہنگامی کٹس بھی رکھتے ہیں، جن میں کم از کم تین دن کیلئے پانی، محفوظ خوراک، ادویات، فرسٹ ایڈ، پاور بینکس، ریڈیو اور ٹارچ شامل ہوتے ہیں۔ بچوں کیلئے کھلونے اور کتابیں بھی رکھی جاتی ہیں، جبکہ اجتماعی بنکروں میں مزید سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔ ہر شہری کے موبائل میں ’ریڈ الرٹ‘ ایپ موجود ہوتی ہے، جو میزائل حملے سے پہلے خبردار کرتی ہے۔

 

مسلسل خطرے کے ماحول میں نوجوانوں کیلئے صورتحال اور بھی مشکل ہو گئی ہے۔ ذہنی دباؤ کم کرنے کیلئے بنکروں میں نئی سرگرمیاں بھی شروع ہو گئی ہیں، جن میں ڈیٹنگ ایپس کا استعمال اور بعض مقامات پر بنکروں کو عارضی تفریحی مقامات میں تبدیل کرنا شامل ہے۔

 

حالیہ دنوں میں ایک جوڑے نے ایک بڑے مال کی زیرِ زمین پارکنگ میں شادی بھی کی، جہاں پناہ لینے آئے افراد ہی مہمان بن کر شریک ہوئے۔ یہ منظر جنگی حالات میں عوام کی مجبوری اور حوصلے دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button