40 دن کی جنگ نے بدل دی بازی: ایران کا دبنگ مؤقف، امریکہ کی شرائط پسِ پشت؟
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے اندازوں کے برعکس کوئی کمزور ملک نہیں، بلکہ 40 روزہ جنگ نے اس کی طاقت اور مزاحمت کو ثابت کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران نے ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی نظام کو سخت دباؤ میں رکھا، جس کے بعد اب تہران زیادہ مضبوط شرائط کے ساتھ امن مذاکرات کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک جامع معاہدہ زیر غور ہے، تاہم ایران نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن یہ عمل اس کی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہوگا۔ ساتھ ہی ایران اس راستے کو محصولات کے ذریعے ایک معاشی ذریعہ بنانے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو اس کی تہذیب کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران امریکی دباؤ میں آنے کے بجائے اپنی پیش کردہ 10 شرائط پر زیادہ زور دے رہا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی 15 شرائط کو خاطر میں نہیں لایا جا رہا۔
تہران میں اس جنگ کے بعد خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی تکنیکی برتری کے باوجود جنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اب اسی اعتماد کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہے۔
جنگ سے قبل حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والے عوام بعد ازاں حکومت کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جس سے داخلی استحکام میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ ایران نے اس جنگ میں کئی اہم شخصیات کو کھو دیا، تاہم اس نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں دباؤ کے آگے جھکنے والا نہیں۔
امریکی دعوؤں کے برعکس، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بدستور قیادت کر رہے ہیں، جبکہ ان کے جانشین کے طور پر ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام زیر گردش ہے، جنہیں امریکہ مخالف سخت موقف کے لیے جانا جاتا ہے۔
ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ترک کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے، جو کہ امریکہ کی اہم شرطوں میں شامل تھا۔



