ایران سے جنگ مہنگی پڑنے لگی: امریکہ کے روزانہ 8 ہزار کروڑ روپے خرچ

ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکہ کو بھاری مالی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ روزانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے جس کے معاشی اور سیاسی اثرات پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔
واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی 100 گھنٹوں میں ہی امریکہ نے تقریباً 3.7 ارب ڈالر خرچ کئے۔ اس کے بعد پہلے ہفتے کے دوران اوسطاً روزانہ 900 ملین ڈالر خرچ ہوئے، جو ہندوستانی کرنسی کے حساب سے تقریباً 8,300 کروڑ روپے یومیہ بنتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی جگہ نئے ہتھیار تیار کرنے کے لئے مزید 3.1 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ روزانہ تقریباً 758 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار میدان جنگ میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔ جنگی طیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کے اخراجات بھی اس کے علاوہ ہیں۔
یہ تمام اخراجات امریکی محکمہ دفاع کے مقررہ بجٹ سے زائد ہیں، اس لئے اضافی فنڈز حاصل کرنے کے لئے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر امریکی صدر کو سیاسی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر حکومت مزید فنڈز طلب کرتی ہے تو اپوزیشن اس کی مخالفت کر سکتی ہے، جبکہ فنڈز کے بغیر جنگ کو جاری رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
ادھر امریکہ میں پہلے ہی مہنگائی، قیمتوں میں اضافہ، تیل کی بڑھتی قیمتوں اور بڑھتے اخراجات زندگی پر عوام میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنگی اخراجات میں اضافہ حکومت کے لئے سیاسی طور پر مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔



