کرناٹک میں محبت کی شادی کرنے والوں کے لئے تاریخی قانون منظور — بالغ کو شادی کے لئے گھر والوں کی اجازت کی ضرورت نہیں ؛ جوڑوں کو فوری تحفظ اور سخت سزاؤں کا اعلان
کرناٹک حکومت کا اہم فیصلہ — محبت کرنے والے جوڑوں کے تحفظ اور ’آنر کلنگ‘ کے خاتمے کے لیے سخت قانون کی منظوری!
کرناٹک حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے محبت کرنے والے جوڑوں کو تحفظ فراہم کرنے اور غیرت کے نام پر ہونے والے قتل (آنر کلنگ) کے واقعات کو روکنے کے لیے ایک تاریخی بل کی منظوری دے دی ہے۔
ریاستی کابینہ نے ’’کرناٹک ویڈنگ چوائس فریڈم اینڈ آنر کرائمز پریونشن بل 2026‘‘ کی منظوری دی ہے۔ اس بل کے مطابق دو بالغ افراد کو اپنی پسند سے شادی کرنے کا مکمل آئینی حق حاصل ہوگا اور اس میں کوئی بھی شخص رکاوٹ نہیں ڈال سکے گا۔
بل میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر لڑکی کی عمر 18 سال اور لڑکے کی عمر 21 سال ہے تو ان کی شادی کے لیے والدین، خاندان یا برادری کے کسی بھی سربراہ کی اجازت ضروری نہیں ہوگی۔ دونوں افراد کی باہمی رضامندی کو ہی بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگی۔
بل میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ اگر کسی جوڑے کو اپنی شادی کے باعث ذات یا مذہب کی بنیاد پر خطرہ لاحق ہو تو وہ پولیس سے رجوع کر سکتے ہیں۔ شکایت موصول ہونے کے صرف 6 گھنٹوں کے اندر پولیس کو فوری کارروائی کرتے ہوئے تحفظ فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
محبت کرنے والے جوڑوں کے تحفظ کے لیے ہر ضلع میں خصوصی سیلز اور 24 گھنٹے ہیلپ لائن قائم کی جائیں گی، جبکہ خطرے سے دوچار جوڑوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں (سیف ہاؤسز) بھی قائم کیے جائیں گے۔
بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر حملہ کرنا یا نوبیاہتا جوڑوں کا سماجی بائیکاٹ کرنا سنگین جرم تصور ہوگا۔ ایسے جرائم پر کم از کم 5 سال قید سے لے کر عمر قید یا سزائے موت تک کی سزا دی جا سکے گی۔
اس بل کا نام 12ویں صدی کے سماجی مصلح بسونّا کے قول ’’ایوا نمّاو‘‘ (یعنی ’وہ بھی ہمارا ہی ہے‘) سے منسوب کیا گیا ہے، جس کا مقصد ذات پات اور مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کو فروغ دینا ہے۔
ہندوستان بھر میں بڑھتے ہوئے آنر کلنگ کے واقعات کے تناظر میں کرناٹک حکومت کا یہ فیصلہ ایک بڑی اور تاریخی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔



