اسپشل اسٹوری

ڈیڑھ فٹ قد ، پہاڑ جیسا حوصلہ: ماں کی گود میں دسویں کا امتحان دینے والی 14 سالہ سنیتا کی لازوال کہانی

بھونیشور _ صرف دیڑھ 1.5  فٹ قد کی سنیتا نائک عزم و حوصلے کی مثال بن گئی ہیں۔ ریاست اوڈیشہ کے ضلع ڈھینکنال کے کماخیہ نگر بلاک کے پنچایت راج ہائی اسکول میں 14 سالہ سنیٹا اس سال دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں شریک ہیں اور اپنے مضبوط ارادے کے باعث سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

 

سنیتا کا تعلق کماخیہ نگر بلاک کے کٹا گاؤں سے ہے۔ ہائی اسکول سرٹیفکیٹ کا امتحان 19 فروری سے شروع ہوا اور تب سے وہ ایک بھی پرچہ چھوڑے بغیر باقاعدگی سے شریک ہو رہی ہیں۔ کم قد ہونے کے باعث انہیں چلنے میں دشواری پیش آتی ہے اور ہم عمر بچوں کی طرح واضح گفتگو بھی نہیں کر پاتیں، لیکن ان رکاوٹوں نے ان کے حوصلے کو کمزور نہیں کیا۔

 

ہر امتحانی دن ان کی والدہ سنجو نائک انہیں گود میں اٹھا کر امتحانی مرکز تک لے جاتی ہیں۔ ایک معاون لکھاری، جو دور کے رشتہ دار ہیں، ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ سنیتا آہستہ آواز میں جوابات بولتی ہیں اور معاون انہیں تحریر کرتے ہیں۔ اس دوران ماں باہر بیٹھ کر خاموشی سے بیٹی کی کامیابی کیلئے دعا کرتی رہتی ہے۔

 

دو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی سنیتا مہول پال پنچایت کے نگمانند ہائی اسکول کی طالبہ ہیں۔ سنجو نائک کے مطابق سنیٹا پیدائشی جسمانی نقص کے ساتھ پیدا ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ تین سال کی عمر تک وہ انہیں ڈھینکنال اور کٹک کے مختلف ڈاکٹروں کے پاس لے گئیں، مگر کوئی مؤثر علاج نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود والدین نے ان کی تعلیم متاثر نہیں ہونے دی۔ مقامی اسکول میں داخلہ دلانے پر انہیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ سنیتا کو کتابوں اور رنگوں سے بے حد لگاؤ ہے۔

 

سنجو یاد کرتی ہیں کہ قد کی کمی اور بولنے میں دشواری کے باوجود سنیتا نے کبھی تعلیم سے منہ نہیں موڑا، اسی لئے ہم نے بھی یقینی بنایا کہ وہ روزانہ اسکول جائیں۔

 

12 سال قبل حالات نے نیا رخ لیا جب سنجو کے شوہر، جو ایک چھوٹے کسان اور مزدور تھے، انتقال کر گئے۔ اس کے بعد سے وہ مقامی اسکول میں باورچی کے طور پر کام کر کے اور کبھی کبھار یومیہ مزدوری کر کے اپنے دونوں بچوں کی پرورش کر رہی ہیں۔ خاندان کے پاس تھوڑی سی زمین ہے مگر اس سے آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کا 20 سالہ بیٹا راجیش بھی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہے۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button