ایک دلہن کے لئے دو دولہے سہرا باندھ کر بارات کے ساتھ پہنچ گئے : شادی خانہ میں ہنگامہ، پولیس نے سنبھالا معاملہ

اترپردیش کے امروہہ میں ایک انوکھا معاملہ سامنے آیا، جہاں ایک ہی دلہن کے لئے دو دولہے بارات لے کر پہنچ گئے۔ اس واقعہ سے شادی کی تقریب میں افرا تفری مچ گئی اور پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کا رشتہ مرادآباد کے ایک رشتہ دار کے بیٹے سے طے کیا تھا اور دونوں خاندانوں کے درمیان منگنی بھی ہو چکی تھی۔ تقریباً ایک ماہ قبل باہمی رضامندی سے 12 اپریل کو شادی کی تاریخ مقرر کی گئی اور دعوت نامے بھی تقسیم کر دیے گئے تھے۔
اسی دوران دونوں خاندانوں کے درمیان کسی بات پر تنازعہ پیدا ہو گیا، جو اس قدر بڑھا کہ لڑکی کے والد نے شادی سے انکار کر دیا۔ تاہم لڑکا اور اس کے گھر والے ہر حال میں شادی پر بضد رہے۔ شادی کی تمام تیاریاں مکمل ہونے اور سماجی وقار کا مسئلہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
اسی بیچ پنچایت کے دوران لڑکی کے خاندان نے سنبھل کے ایک اور نوجوان سے رشتہ طے کر دیا۔ جلد بازی میں منگنی اور شادی کی تیاریاں مکمل کی گئیں اور 12 اپریل کی وہی تاریخ نئی بارات کے لئے بھی مقرر کر دی گئی، جس پر سنبھل والا فریق فوری راضی ہو گیا۔
اتوار کے روز کیل سا بائی پاس کے قریب واقع ایک بینکوئٹ ہال میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ سنبھل سے بارات پہنچ چکی تھی اور نکاح کی تیاریاں شروع ہی ہوئی تھیں کہ اچانک مرادآباد کا دولہا بھی سہرا باندھ کر اپنی بارات کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ ایک ہی دلہن کے لیے دو باراتوں کی آمد سے تقریب میں زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔ پولیس نے دلہن سے اس کی مرضی دریافت کی، جس پر اس نے اپنے گھر والوں کی رضامندی سے سنبھل کے دولہے کے ساتھ نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
اس کے بعد پولیس مرادآباد سے آئے دولہے کو پولیس اسٹیشن لے گئی، جہاں اسے شام تک بٹھائے رکھا گیا۔ آخرکار دلہن کی رخصتی سنبھل والی بارات کے ساتھ ہوئی، جبکہ بعد میں پولیس نے مرادآباد کے دولہے کو بھی چھوڑ دیا۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔



