حیدرآباد پرانا پل چلہ مبارک کو نقصان پہنچانے والے 11 اشرار گرفتار۔ خاتون بھی شامل

حیدرآباد: شہر کے پرانا پل میں پیش آئے فرقہ وارانہ واقعہ کے سلسلے میں پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے 11 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ کاماٹی پورہ پولیس کے مطابق یہ تمام ملزمان ایک غیر قانونی اجتماع کا حصہ تھے اور انہوں نے اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ نعرے لگاتے ہوئے مزارات کو نقصان پہنچایا
جس کے نتیجے میں عوامی امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوئی۔پولیس کے مطابق 15 جنوری 2026 کو رات تقریباً 11:30 بجے ایک ملزم پرانا پل دروازہ میں واقع میسماں مندر میں داخل ہوا اور مندر کے برآمدے میں لگے فلیکسی بینر اور پلاسٹر آف پیرس کی مورتی کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا۔
اس واقعہ کی بنیاد پر بعض افراد نے غیر قانونی اجتماع کی شکل میں جمع ہو کر چِلہ مبارک کو نقصان پہنچایا۔ کاماٹی پورہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر تکنیکی شواہد کا تجزیہ کیاجس کے نتیجے میں واقعہ میں ملوث ملزمان کی شناخت ممکن ہوئی اور انھیں گرفتارکیا گیا۔
پولیس نے جن 11 اشار کو گرفتار کیا ہے ان میں نوجوان، مزدور، سبزی فروش، خانگی ملازمین اور ایک خاتون شامل ہیں۔ گرفتار شدگان میں شنکر،ابھیشیک، کشال سنگھ عرف کشال، ورُن عرف بوبی،ارون ،رمن عرف نانو، بھومیش،گنیش،سندیپ، وشال سنگھ اور سومتی کالی منجو شامل ہیں۔ تمام ملزمین کا تعلق پراناپل اور پاردی واڑہ علاقوں سے بتایا گیا ہے
تمام گرفتار ملزمین کو 19 جنوری 2026 کو معزز عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں عدالتی تحویل (جوڈیشل کسٹڈی) میں بھیج دیا گیا جبکہ دیگر ملزمین کی تلاش جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور تلاش کا عمل جاری ہے۔حیدرآباد کے پولیس کمشنر مسٹر وی سی سجنار، آئی پی ایس کی ہدایات پر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔
عوام میں اعتماد بحال کرنے کے لیے کاماٹی پورہ اور بہادر پورہ علاقوں میں پولیس گشت میں اضافہ کیا گیا فلیگ مارچ نکالے گئے اور حساس علاقوں میں پکٹیں قائم کی گئیں۔پولیس نے دونوں برادریوں کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن برقرار رکھیں افواہوں سے پرہیز کریں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کی بحالی میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔



