تلنگانہ

میانمار–تھائی لینڈ سرحد پر 16 ہندوستانی بشمول 3 حیدرآبادی غلامی کا شکار، صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی کی فوری مداخلت کا مطالبہ

صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور رکنِ پارلیمان بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ایک نہایت تشویشناک واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ کم از کم 16 ہندوستانی شہریوں کو، جن میں حیدرآباد کے تین نوجوان بھی شامل ہیں، تھائی لینڈ میں ملازمت کا جھانسہ دے کر میانمار–تھائی لینڈ سرحد پر لے جایا گیا، جہاں انہیں جبری مشقت اور غلامی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

 

بیرسٹر اویسی کے مطابق متاثرہ افراد سے روزانہ 18 تا 20 گھنٹے کام لیا جا رہا ہے، انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ان کے پاسپورٹس اور موبائل فون ضبط کر لیے گئے ہیں اور انہیں طبی سہولتوں سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک اطلاعات میر سجاد علی، ساکن عثمان نگر، حیدرآباد سے موصول ہوئی ہیں، جو اس وقت میانمار–تھائی لینڈ سرحد پر قید ہیں۔ ان کے ساتھ دو دیگر نوجوان بھی موجود ہیں جن کا تعلق مولا علی اور بنجارہ ہلز سے بتایا گیا ہے۔

 

صدر مجلس نے اس سنگین معاملے میں حکومتِ ہند اور خصوصاً وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کی بحفاظت رہائی اور وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ان کے گھر والوں کو انصاف اور راحت مل سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button