تلنگانہ

معیاری تعلیم کے لئے بجٹ کا 20 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کو فی الفور اجراء کیا جائے : ایس آئی او تلنگانہ کا حکومت سے مطالبہ

معیاری تعلیم کے لیے بجٹ کا 20 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کو فی الفور اجراء کیا جائے : ایس آئی او تلنگانہ کا حکومت سے مطالبہ

 

بجٹ سیشن کے پیش نظر ایس آئی او نے تعلیم، روزگار اور اقلیتی بجٹ کے موثر استعمال پر زور دیا

 

حیدرآباد۔: اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا،تلنگانہ نے ریاست کی تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے بجٹ سیشن سے قبل تجاویز پر مبنی ڈاکیومنٹ جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تعلیم پر بجٹ کا 20 فیصد حصہ مختص کیا جائے.

 

اس اہم دستاویز میں طلبہ، تعلیم اور روزگار سے متعلق اہم تجاویز پر گفتگو کی گئی. اس دستاویز میں ریاست کی تعلیمی صورتحال پر بحث کی گئی، معیار تعلیم سے متعلق ایسر (ASER) کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے کہا گیا کہ ریاست میں پرائمری سطح پر داخلوں کا فیصد تشفی بخش ہے، لیکن معیار تعلیم کی صورتحال تشویشناک ہے. رپورٹ کے مطابق سوم تا پنجم جماعت کے طلبہ کا صرف 18 فیصد حصہ دوم جماعت کے متن کو پڑھ سکتا ہے. اس کے علاوہ صرف 49 فیصد طلبہ حساب کے بنیادی جمع تفریق کرسکتے ہیں. ششم اور ہفتم جماعت کے طلبہ کا 50 فیصد حصہ دوم جماعت کے متن کو پڑھنے کے قابل نہیں ہے. یہ تشویشناک صورتحال حکومت کی فوری توجہ کی طالب ہے. اس ضمن میں ایس آئی او نے مطالبہ کیا کہ حکومت معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور بجٹ کا 20 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کیا جائے.

 

ایس آئی او نے تعلیم کے بجٹ کے ایک اہم مسئلہ کو اجاگر کرتے ہوئے اعداد و شمار پیش کئے کہ تعلیم کے بجٹ کا 80 فیصد حصہ محض تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہیکہ انفراسٹرکچر، اساتذہ کی ٹریننگ اور معیار تعلیم کے بلند کرنے کے ضمن میں حکومت فکرمند نہیں ہے. ایس آئی او نے مطالبہ کیا کہ ٹیچرز کی ٹریننگ اور انفراسٹرکچر کے لیے مناسب بجٹ مختص کیا جائے.

 

حق تعلیم قانون RTE پر گفتگو کرتے ہوئے محمد فراز احمد، ریاستی صدر ایس آئی او نے کہا کہ کےجی تا پی جی مفت تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن یہ بڑی حیرت کی بات ہیکہ تلنگانہ میں ابھی تک RTE کو لاگو نہیں کیا گیا، انہوں نے RTE 12(1)(c) کے حوالے سے کہا کہ اس شق کے مطابق پرائیویٹ اسکولز میں 25 فیصد حصہ سماج کے بچھڑے ہوئے طبقہ کا ہے، اس حساب سے تلنگانہ میں تقریباً 90 ہزار طلبہ ہر سال پرائیوٹ اسکولز میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں. لیکن حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے طلبہ اس سہولت سے محروم ہیں. انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر آر ٹئی ای کو لاگو کریں.

 

اقلیتی بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اقلیتی بجٹ کے لیے 3593 کروڑ مختص کئے ہیں جو کہ مثبت قدم ہے، لیکن اس بجٹ کا بڑا حصہ استعمال نہیں ہورہا ہے. مزید یہ کہ گزشتہ بجٹ کا بڑا حصہ راجیو گاندھی یوا وکاسام یوجنا کے لئے مختص کیا گیا، لیکن اس پر عمل آواری کی کوئی رپورٹ موجود نہیں ہے، ایس آئی او مطالبہ ہیکہ اقلیتی بجٹ کو اقلیتوں کی تعلیمی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے.

 

ایس آئی او نے تلنگانہ میں جاب کے مسئلہ پر بھی تشویش کا اظہار کیا، ریاستی یونیورسٹیوں میں تقریباً 68 فیصد تدریسی نشستیں مخلوعہ ہیں، اسی طرح پرائمری تعلیم اور صحت عامہ کے میدان میں بھی خالی نشستوں کی بڑی تعداد ہے. تقریباً 72،225 سرکاری پوسٹوں پر بھرتی کی ضرورت ہے، ایس آئی او کا مطالبہ ہیکہ ان کو فوری طور پر پُر کیا جائے. تعلیمی میدان میں ڈی ایس ای کے ذریعہ نشستوں کو پُر کیا جائے. بالخصوص اردو میڈیم ڈی اس سی کی 666 مخلوعہ نشستوں کو فوری پُر کرنے کا مطالبہ کیا.

 

تلنگانہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے سلسلہ میں ایس آئی او نے کہا کہ ٹمریز کے لیے فنڈس کو اقلیتی بجٹ کے بجائے علیحدہ سب پلان کے تحت بجٹ مختص کیا جائے، ساتھ ہی ٹمریز میں غیر اقامتی طرز پر بھی طلبہ کا داخلہ لیا جائے تاکہ طلبہ کی بڑی تعداد اس سے استفادہ کرسکے. اس کے علاوہ ٹمریز کے دیگر مسائل جیسے طلبہ کے تحفظ اور ذاتی عمارتوں وغیرہ جیسے مسائل پر بھی توجہ دلائی گئی.

 

 

ایس آئی او نے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے مسئلہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسکالرشپ کے بقایہ جات کو فوری ریلیز کیا جائے اور اس کے لیے منظم میکانزم کو تیار کیا جائے.

متعلقہ خبریں

Back to top button