تلنگانہ

حیدرآباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کی 47ویں سالگرہ کی تقریب

 

حیدرآباد ؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل خانہ، حیدرآباد کی جانب سے انقلابِ اسلامی ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ہفتہ، 7 فروری 2026 کو ٹرائیڈنٹ ہوٹل، ہائی ٹیک سٹی میں ایک باوقار تقریب منعقد کی گئی۔

 

اس موقع پر ایرانی دستکاریوں اور قالینوں، بالخصوص ہاتھ سے بنے ریشمی قالینوں کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں ایران کی عظیم تہذیبی اور ثقافتی وراثت کی جھلک نمایاں تھی۔

 

تقریب میں حکومتِ تلنگانہ کے اسپیشل چیف سکریٹری جناب جیش رنجن، چیئرمین تلنگانہ مائنارٹیز کمیشن جناب طارق انصاری، مختلف ممالک کے قونصل جنرلز اور اعزازی قونصل جنرلز، ممتاز سفارتکار، جامعات کے وائس چانسلرز و ڈائریکٹرز، معروف اساتذہ، دانشور، اعلیٰ سرکاری عہدیداران، میڈیا نمائندگان، علمائے کرام اور حیدرآباد میں مقیم ایرانی برادری کے افراد نے شرکت کی۔

 

اس موقع پر قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران، حیدرآباد جناب حامد احمدیہ نے خطاب کرتے ہوئے 1979 کے انقلاب کو ایرانی قوم کی آزادی، خودمختاری اور وقار کے حصول کی جدوجہد کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انقلاب محض سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ عوامی شرکت، انصاف، آزادی اور استحکام پر مبنی ایک نئے دور کا آغاز تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجز کے باوجود ایران نے داخلی صلاحیتوں اور انسانی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی، معیشت، بنیادی ڈھانچے اور سماجی ترقی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

 

ایران اور ہندوستان کے درمیان صدیوں پر محیط تہذیبی تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا، خصوصاً دکن اور حیدرآباد سے تاریخی روابط کو اجاگر کیا گیا۔ قطب شاہی دور میں حیدرآباد کو "نیا اصفہان” کہا جاتا تھا اور چارمینار جیسی تاریخی عمارات مشترکہ ورثے کی علامت ہیں۔ حالیہ برسوں میں انٹرنیشنل نارتھ–ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں میں تعاون سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

 

حالیہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسیوں کے باوجود ایران نے اپنے پُرامن جوہری پروگرام کے سلسلے میں نیک نیتی سے مذاکرات کیے، تاہم بعد ازاں فوجی حملہ کیا گیا۔ داخلی احتجاجات کے حوالے سے کہا گیا کہ پرامن مظاہروں میں دہشت گرد عناصر کی مداخلت سے پرتشدد حالات پیدا ہوئے جن میں سیکورٹی اہلکار اور شہری شہید یا زخمی ہوئے۔

 

اسلامی جمہوریہ ایران نے آئین کے آرٹیکل 27 کے تحت پُرامن اجتماع کے حق کی توثیق کرتے ہوئے قومی سلامتی اور عوامی نظم و نسق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کی شرکت پر شکریہ ادا کیا گیا اور ایران و ہندوستان کے عوام اور حکومتوں کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button