جناب عبدالصمد نواب کا انتقال ؛ کریم نگر میں خدمت و سماج کا ایک روشن چراغ بجھ گیا – قوم و ملت کا سچا مجاہد رخصت
کریم نگر سوگوار — ہر دلعزیز سماجی کارکن و سینئر کانگریس رہنما عبدالصمد نواب کے انتقال پر غم کی لہر
تلنگانہ کے کریم نگر شہر سے انتہائی افسوسناک خبر موصول ہوئی ہے کہ شہر کی ممتاز اور ہر دلعزیز شخصیت محمد عبدالصمد نواب کا 65 سال کی عمر میں مختصر سی علالت کے بعد حیدرآباد کے ایک خانگی ہاسپٹل میں انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کی خبر سے سیاسی، سماجی اور ادبی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عبدالصمد نواب شہر میں اپنی ملنساری، خدماتِ خلق اور قوم و ملت کے لیے انتھک جدوجہد کے سبب ایک منفرد شناخت رکھتے تھے۔
عبدالصمد نواب کی میت کریم نگر منتقل کی جارہی ہے اور اطلاعات کے مطابق بروز چہارشنبہ بعد ظہر تدفین ان شاءاللہ خطہ صالحین مسجد افضل بیابانی بائی پاس روڈ کریم نگر میں ادا کیے جانے کا امکان ہے۔
مرحوم تلنگانہ پردیش کانگریس کے آرگنائزیشن سیکریٹری اور خادمانِ ملت کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے عوامی مسائل اور فلاحی سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ وہ انجمن ترقی اردو کریم نگر کے جنرل سکریٹری بھی تھے اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی کوششوں سے کریم نگر میں متعدد ادبی مشاعرے اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوئے جنہیں عوام اور شعرا نے بے حد سراہا۔
مرحوم وقف املاک کے تحفظ کے لئے قائم وقف پروٹیکشن کمیٹی کے بانی اراکین میں وہ شامل تھے۔ متحدہ ضلع میں وقف املاک کے لئے متعددتحریکیں چلائیں. وقف پورٹل اور اوقافی امور کے سلسلہ میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ قبرستانوں اور مساجد کے تحفظ و ترقی کے لیے، خصوصاً بیابانی قبرستان اور دیگر مذہبی مقامات کی بہتری کے لیے، انہوں نے بھرپور دلچسپی اور مسلسل خدمات انجام دیں۔ قوم و ملت کی بھلائی کا کوئی بھی کام ہو، وہ ہمیشہ سب سے آگے نظر آئے۔
کوویڈ وبا کے دوران جب حالات نہایت سنگین تھے، عبدالصمد نواب نے خطرات کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے مرحومین کے غسل و تدفین کا انتظام کیا، جسے شہر بھر میں بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ وہ لاری ایسو سی ایشن میں بھی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے اور محنت کش طبقہ کے مسائل کے حل میں سرگرم رہے۔
مسلمانوں کے سچے خادم اور اسلام کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مرکزی میلاد کمیٹی کے سیکریٹری کی حیثیت سے بھی انہوں نے اپنی منفرد انداز میں مختلف فلاحی اداروں کے ذریعے خدمات انجام دیں اور ایک مستقل مقام حاصل کیا۔ کریم نگر شہر اور متحدہ کریم نگر ضلع میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو عبدالصمد نواب سے واقف نہ ہو۔
انہوں نے ادارۂ خادمان ملت کے نام سے ایک فلاحی تنظیم قائم کی، جس کے ذریعے صاحبِ حیثیت افراد سے عطیات حاصل کر کے غریب بیواؤں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں ماہانہ پنشن فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ غریب مسلم خواتین کے لیے سلائی مشین مراکز قائم کر کے روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے، ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم کیے گئے، جیلوں میں سزا کاٹ رہے غریب قیدیوں کی رہائی میں مدد کی گئی اور اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں کے طبی اخراجات برداشت کیے گئے۔
عبدالصمد نواب کا انتقال کریم نگر کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ ان کی کمی مدتوں محسوس کی جائے گی۔ شہر کے مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی قائدین نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔
پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو فرزندان اور تین دختران شامل ہیں اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔



