ایکریڈیشن رولز کو چیلنج، ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے فوری سماعت کا حکم دے دیا

صحافیوں کے ایکریڈیشن کارڈز کی معیاد پر تلنگانہ ہائی کورٹ کا نوٹس، سماعت 26 فروری کو مقرر
ایکریڈیشن رولز کو چیلنج، ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے فوری سماعت کا حکم دے دیا
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے صحافیوں کے ایکریڈیٹیشن کارڈز کی معیاد ختم ہونے کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ موجودہ ایکریڈیٹیشن کارڈز کی میعاد 28 فروری 2026 کو ختم ہونے والی ہے، جس کے پیش نظر عدالت نے معاملے کو اہمیت کے ساتھ سنا۔
چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں ایکریڈیٹیشن کارڈز کی متوقع معیاد ختم ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی اور تلنگانہ میڈیا ایکریڈیٹیشن رولز 2025 کے تحت جاری جی او ایم ایس نمبر 252 اور بعد کی ترامیم کو چیلنج کیا گیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس بات کا نوٹ لیا کہ متعلقہ حکام نے سابقہ ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا۔ بنچ نے پبلک پراسیکیوٹر کو ہدایت دی کہ وہ 26 فروری 2026 تک جوابی حلف نامہ داخل کریں۔ عدالت نے دیگر فریقین کو بھی آئندہ تاریخ سماعت سے قبل اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ایکریڈیٹیشن کارڈز کی میعاد ختم ہونے سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ 28 فروری کی قریب آتی ہوئی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے بنچ نے سماعت کو پیش کرتے ہوئے 26 فروری 2026 مقرر کی۔
پبلک پراسیکیوٹر نے متعلقہ مقدمہ زیرِ فہرست ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے 12 مارچ تک مہلت طلب کی، تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کی فوری نوعیت کے پیش نظر جلد سماعت مقرر کی۔
فیڈریشن نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جی او ایم ایس نمبر 252 اور ترمیم شدہ جی او آر ٹی نمبر 103 کو کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی مقدمہ زیرِ سماعت رہنے تک موجودہ ایکریڈیٹیشن کارڈز کی میعاد ختم ہونے سے روکنے کے لیے عبوری احکامات جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی۔
فیڈریشن کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈوکیٹ برکت علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایکریڈیٹیشن کی معیاد میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ آئین ہند کے آرٹیکل 14، 16، 19 اور 21 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکریڈیٹیشن کارڈز میڈیا پیشہ ور افراد کے لیے ادارہ جاتی تحفظ کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کی معیاد ختم ہونے سے سیکڑوں صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ متاثر ہوں گے۔
26 فروری کو ہونے والی سماعت کے نتیجے میں اس معاملے میں آئندہ کے فوری لائحۂ عمل کا تعین متوقع ہے۔



