تلنگانہ

مخالف بی سی پالیسیز‘کانگریس کی اقتدار سے بےدخلی ناگزیر : کے کویتا

مخالف بی سی پالیسیز‘کانگریس کی اقتدار سے بےدخلی ناگزیر

پسماندہ طبقات کو دھوکہ دیاجارہاہے۔حکومت کا ذات پات پر مبنی سروے اغلاط کا پلندہ

گرام پنچایت سطحوں پر تمام طبقات کے اعدادوشمار پیش کئے جائیں

دفتر تلنگانہ جاگروتی میں کے کویتا کی پریس کانفرنس

 

صدرتلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے پسماندہ طبقات کے ساتھ صریح ناانصافی کی ہے۔گرام پنچایت انتخابات میں بی سی برادری کو دھوکہ دیاجارہاہے۔وہ دفتر جاگروتی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں

 

۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہاکہ بی سی مخالف پالیسیوں پر کاربند کانگریس حکومت کو عوامی طاقت کے ذریعہ اقتدار سے بے دخل کرنا ناگزیر ہوچکاہے کیوں کہ اب ایسی جماعت کے ساتھ رہنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔کویتا نے کہاکہ کانگریس پارٹی کو اس غلط فہمی میں ہرگز نہیں رہناچاہئے کہ پسماندہ طبقات کے جذبات واحساسات سے کھیلنے پر وہ خاموش رہ جائیں گے۔ بلکہ اب کانگریس کو منہ توڑ جواب دینا ضروری ہوگیاہے۔

 

انہوں نے کہاکہ کانگریس کی جانب سے کیاگیا ذات پات پر مبنی سروے اغلاط کا پلندہ ہے۔جس میں بی سی آبادی کو 5تا6فیصد کم کرکے پیش کیاگیاہے۔کویتا نے پرزورانداز میں کہاکہ ذات پات پر مبنی سروے پر تلنگانہ جاگروتی نے اعتراضات کئے تھے جو اب مکمل طور پر سچ ثابت ہورہے ہیں۔کلواکنٹلہ کویتا نے مطالبہ کیاکہ گرام پنچایت سطح پر تمام طبقات کی حقیقی آبادی کو عوام کے سامنے پیش کیاجائے۔

 

انہوں نے بی جے پی کو بھی بی سی ریزرویشن کے معاملہ میں سب سے بڑا مجرم قراردیا اور کہاکہ مرکزی حکومت کافرض تھاکہ وہ بی سی تحفظات پر واضح موقف اختیار کرتی ۔مگر اس نے مسلسل اور متواتر خاموشی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پسماندہ طبقا ت کو اگر مناسب تحفظات فراہم نہیں کئے جاتے ہیں تب ایسے حلقوں میں بڑے پیمانے پر پرچہ نامزدگیاں داخل کی جانی چاہئیں ۔ضرورت پڑنے پر انتخابات کو موخر کیاجاناچاہئے۔کویتا نے واضح کیاکہ پسماندہ طبقات کو 42فیصد تحفظات کے حصول تک تلنگانہ جاگروتی کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ آج یوم دستور کے موقع پر وہ بابا صاحب امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ بات یاد دلا ناچاہتی ہیں کہ دستور کا اصل منشا ومقصد پسماندہ طبقات کو اقتدار تک رسائی دلاناہے۔ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کی طرز پر بی سی برادری کو بھی آئینی تحفظ ملناچاہئے کیوں کہ ملک میں 4ہزار سے زائد پیشہ ور طبقات بی سی زمرہ میں آتے ہیں

 

۔انہوں نے کہاکہ منڈل کمیشن کی سفارشات کے مطابق ملک میں 27فیصد تحفظات نافذ ہوناچاہئے تھا۔لیکن افسوس کے آج تک کسی بھی ادارے میں ریزرویشن مکمل طور پر نافذ نہیں ہواہے۔دستور کی اصل روح تب تک محفوظ نہیں ہوسکتی جب تک تحریر کردہ قانو ن کے ساتھ ساتھ اس کی روح یعنی انصاف‘ مساوات اور مواقع کی فراہمی کو حقیقی معنوں میں نافذ نہیں کیاجاتا ۔بدقسمتی سے ملک میں پیسوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے

 

اور دستور کی روح کمزور ہوتی جارہی ہے۔کویتا نے کہاکہ قیام تلنگانہ کے بعد کانگریس نے پسماندہ طبقات کو 42فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیاتھا۔اس خصوص میں جاگروتی نے پھولے فرنٹ کے ساتھ متحدہ طور پر بھر پور تحریک چلائی۔اسی جدوجہد کے نتیجہ میں تعلیم ‘ملازمت اور سیاسی سطح پر پسماندہ طبقات کو 42فیصد تحفظات کی فراہمی کا بل تیار کیاگیا۔مگر یہ بل آ ج تک صدرجمہوریہ ہند کے پاس التواءکا شکار ہے۔بی سی تحفظات کے معاملہ میں جب صدائے احتجاج بلند کرنے کا انتباہ دیاگیا تب حکومت نے آرڈیننس لایا مگر وہ بھی گورنر کے دفتر میں تعطل کاشکار ہے۔بی جے پی پر اس بل پر عمل آوری کی ذمہ داری تھی تاہم بی جے پی نے خاموشی اختیار کرلی

 

۔کویتا نے کہاکہ کانگریس نے بی سی آبادی کے حقیقی اعدادو شمار بتانے کے بجائے جھوٹ کاسہارالیا اور سروے کو اس طرح سے ڈیزائن کیاکہ بی سی آبادی کم دکھائی دے۔یہی وجہ ہے کہ گرام پنچایت انتخابات میں ریزرویشن میں بی سی طبقات کے ساتھ ناانصافی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔مثال کے طور پر بھدرادری کتہ گوڑم میں 25پنچایتوں میں کہیں پر بھی بی سی ریزرویشن نہیں دیاگیا۔حالانکہ درست سروے کی صورت میں نصف سے زائد مواضعات میں بی سی ریزرویشن کی گنجائش موجود تھی۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ ذات پات پر مبنی کانگریس پارٹی کا سروے اغلاط کا پلندہ ہے۔

 

کویتا نے کہاکہ محبوب آباد میں بی سی ریزرویشن پہلے 9فیصد تھا مگر سروے کے بعد اسے کم کرتے ہوئے 4فیصد کردیاگیا۔عادل آباد اور آصف آباد میں بھی یہی صورتحال ہے۔مجموعی طور پر 12735گرام پنچایتوں میں ایجنسی علاقوں کو منہا کرنے پر 10223پنچایتیں باقی رہتی ہیں۔جن میں صرف 2126کو بی سی کےلئے مختص کیاگیا۔یعنی یہ صرف 21.29فیصد ہے۔جوکہ کانگریس کے وعدے کے لحاظ سے نصف سے بھی کم ہے۔کویتا نے کہاکہ کانگریس نے غلط اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے نہ صرف تلنگانہ بلکہ سارے ملک کو گمراہ کیاہے

 

۔انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے پسماندہ طبقات کو تحفظات کے بارے میں کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا بڑا بھائی کہتے ہیں مگر کبھی بھی کل جماعتی وفد کو دہلی لے کر نہیں گئے اور نہ ہی اس اہم مسئلہ پر وزیر اعظم سے بات کی۔کویتا نے جئے للیتا کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ جئے للیتا نے 20یوم دہلی میں رہ کر تحفظات کےلئے جدوجہد کی تھی۔انہوں نے کہاکہ جن گاﺅں میں ریزرویشن نہیں ہے وہاں پسماندہ طبقات بڑی تعداد میں نامزدگیاں داخل کریں اور ہر گاﺅں میں کامیابی کےلئے بھر پور جدوجہد کی جائے۔

 

انہوں نے بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر شدید تنقید کی اور کہاکہ آج جب وہ سچ بول رہی ہیں تو انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کویتا نے بتایاکہ جاگروتی کے جنم باٹا پروگرام میں معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔کاماریڈی میں کل پروگرام بدستور منعقد ہوگا ۔بعدازاں جی ایچ ایم سی حدود میں چند دن تک پروگرامس منعقد کئے جائیں گے ۔پھر اضلاع میں پہلے ہی کی طرح جنم باٹا پروگرام جاری رہے گا۔انہوں نے کہاکہ بی سی قائدین کی جانب سے جاری احتجاجی پروگراموں میں تلنگانہ جاگروتی پیش پیش رہے گی اور تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے بھی مسلسل اور متواتر جدوجہد جاری رکھی جائے گی

 

۔کویتا نے کہاکہ گرام پنچایت سطح پر تمام طبقات کی آبادی کے اعدادوشمار شائع کئے جائیں اور جس گاﺅں میں جس طبقہ کی تعداد زیادہ ہے وہاں اسی طبقہ کو موقع فراہم کیاجائے۔اگر ضروری ہوتو انتخابات کو موخر کیاجائے اور بی سی طبقات کے ساتھ ناانصافیوں کے خاتمہ کےلئے فوری اقدامات روبہ عمل لائے جائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button