تلنگانہ

مجاہد آزادی طرے باز خان کی برسی سرکاری طور پر منانے کی اپیل

مجاہد آزادی طرے باز خان کی برسی سرکاری طور پر منانے مورخ اور مصنف سید نصیر احمد نے حکومتِ تلنگانہ کے محکمۂ سیاحت و ثقافت سے مطالبہ کیا 

مورخ اور مصنف سید نصیر احمد نے حکومتِ تلنگانہ کے محکمۂ سیاحت و ثقافت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان کے ابتدائی اور بہادر مجاہدِ آزادی طرے  باز خان کی برسی کو 24 جنوری کے روز سرکاری طور پر منایا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے  وزیر  سیاحت و ثقافت۔ جُوپلی کرشنا راؤ کے نام ایک باضابطہ درخواست پیش کی۔

 

نصیر احمد کے مطابق طرے باز خان نے 1857 کی جدوجہدِ آزادی کے ابتدائی مرحلے میں غیر معمولی جرأت، بہادری اور مزاحمتی جذبے کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے وہ تاریخ میں ایک لازوال کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ چونکہ تاریخی ریکارڈ میں ان کی تاریخِ پیدائش واضح نہیں، اس لیے ان کی برسی کو سرکاری سطح پر منانا اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔

 

کوٹھی بس اسٹاپ کے قریب واقع طرے باز خان یادگار وہی مقام ہے جہاں انہیں برطانوی حکومت نے کوٹھی ریزیڈنسی پر حملے کی قیادت کے الزام میں پھانسی دی تھی۔ یہ مقام حیدرآباد کے فراموش شدہ ہیروز کی قربانی اور شجاعت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔

 

نصیر احمد نے مطالبہ کیا کہ حکومت 24 جنوری کو یادگار پر ایک بامعنی تقریب کا انعقاد کرے، جو اس عظیم مجاہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ نئی نسل کے لئے تحریک کا ذریعہ بنے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button