بانسواڑہ واقعہ میں 42 کے منجملہ 19 گرفتار – نظام آباد، نصراللہ آباد اور سنگاریڈی میں بھی ایف آئی آر درج – پولیس کا فلیگ مارچ

کاماریڈی _ تلنگانہ کے بانسواڑہ ٹاؤن میں جمعہ کو پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کو ضلع پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو میں کر لیا۔
کاماریڈی ضلع پولیس کی اطلاع کے مطابق واقعہ کے فوراً بعد اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی اور محض تین گھنٹوں کے اندر حالات کو مکمل طور پر کنٹرول کر لیا گیا۔ فی الحال ٹاؤن میں حالات معمول پر آ چکے ہیں۔سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا سے حاصل شدہ شواہد کی بنیاد پر مجموعی طور پر 42 افراد کی شناخت کی گئی ہے جن میں سے اب تک 19 ملزمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
دیگر افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے اور انہیں بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس واقعہ میں ملوث تمام افراد کے خلاف کمیونل سسپیکٹ شیٹس کھولتے ہوئے آئندہ سخت نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔عوام میں احساسِ تحفظ کو مضبوط بنانے اور امن و امان پر اعتماد بحال کرنے کے مقصد سے ضلع ایس پی ایم راجیش چندرا کی قیادت میں بآنسواڑہ ٹاؤن میں بڑے پیمانے پر فلیگ مارچ کیا گیا۔
یہ مارچ پولیس اسٹیشن سے شروع ہو کر اولڈ ویکلی مارکیٹ، گولڈ شاپ علاقہ، جھنڈا گلی، اولڈ شیخ چاند ہوٹل، میونسپل آفس علاقہ، اسلام پور، گاؤلی گوڑہ، ہنومان مندر، ہرپت کالونی، ریلائنس اور ریلائنس اسمارٹ علاقہ، تاڈکول چوراستہ اور بس اسٹینڈ سے گزرتا ہوا دوبارہ پولیس اسٹیشن پہنچا۔ تقریباً 120 پولیس عہدیداروں اور ملازمین نے اس فلیگ مارچ میں حصہ لیا اور شہر کے اہم علاقوں میں تقریباً 6 کلو میٹر تک گشت کیا
۔اس موقع پر ضلع ایس پی ایم راجیش چندرا آئی پی ایس نے کہا کہ بآنسواڑہ میں پیش آئے واقعہ میں قانون شکنی کرنے والے ہر فرد کی نشاندہی کر کے سخت کارروائی کی جائے گی۔ زبردستی بند کرانے والوں کے خلاف پہلے ہی مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ اشتعال انگیز، گمراہ کن یا افواہ پر مبنی مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے
۔انہوں نے خبردار کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر جھوٹی اطلاعات پھیلانا سنگین جرم ہے۔ گروپ ایڈمن حضرات ایسی پوسٹس کو فوراً حذف کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
اس معاملے سے متعلق نظام آباد، نصراللہ آباد اور سنگاریڈی میں بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور تمام مقدمات میں تیز رفتار تحقیقات جاری ہیں۔ضلع پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے میں تعاون کریں، افواہوں پر یقین نہ کریں اور کسی بھی نقصان کی صورت میں بلا خوف شکایت درج کرائیں۔ پولیس نے حالات کی بحالی میں تعاون کرنے والے شہریوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔



