تلنگانہ

جلسۂ یومُ القرآن میں بیرسٹر اویسی کا بی جے پی پر شدید حملہ، اقلیتوں کے تحفظ کا مطالبہ

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے حیدرآباد میں منعقدہ جلسۂ یومُ القرآن سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی

 

۔ یہ جلسہ تاریخی مسجد چوک میں منعقد ہوا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اپنے پرجوش خطاب میں بیرسٹر اویسی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی حکومت ان طاقتوں کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہے جو مسلمانوں پر مظالم کی ذمہ دار ہیں، جبکہ ملک میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے

 

۔انہوں نے ویمولاواڑہ درگاہ کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ ان کے مطابق انتظامی کارروائی کے نام پر اقلیتی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جانا ایک خطرناک رجحان ہے۔

 

بیرسٹر اویسی نے ملک بھر میں نفرت انگیز جرائم، ہجومی تشدد اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی، خصوصاً ماہِ رمضان کے دوران پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ برسرِ اقتدار جماعت بی جے پی اقلیتوں کے خلاف خوف اور نفرت کا ماحول پیدا کر رہی ہے اور مجرموں کو کھلی چھوٹ دے رہی ہے۔

 

صدر مجلس نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مارچ کے مہینے کے دوران تلنگانہ میں ایس آئی آر نافذ کیا جائے گا۔ بی جے پی اس اقدام کو ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے، جس سے ہمارے شہری وقار اور جمہوری سالمیت پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button