ان 4 بلدیات میں بی آر ایس اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی

حیدرآباد: تلنگانہ کے بلدی انتخابات کے نتائج میں بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) صرف 13 بلدیات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کوسگی، مکتھل، دھرم پوری اور بھینسہ بلدیات میں اس پارٹی کا کھاتہ بھی نہیں کھل سکا۔ دھرم پوری میں جملہ 15 وارڈ س ہیں
اور ان تمام پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کوسگی میں 16 نشستیں ہیں اور وہ سب کی سب کانگریس کے کھاتے میں گئی ہیں۔ اسی طرح ایلاریڈی، یادگیری گٹہ، وڈّے پلی، سلطان آباد، پداپلی، نندی کونڈہ، منتھنی، مدھیرا، کوڑنگل، ہالیہ، چپہ دَنڈی، بھوت پور اور آتماکُور بلدیات میں بی آر ایس کے امیدوار صرف ایک ایک وارڈ میں ہی کامیاب ہو سکے۔
جمعہ کے روز 116 میونسپلٹیوں کے 2,582 وارڈوں کے نتائج جاری ہوئے۔ ان میں کانگریس نے 1,347 وارڈوں میں کامیابی حاصل کر کے 66 میونسپلٹیوں پر قبضہ جما لیا۔ بھارت راشٹرا سمیتی نے 717 وارڈوں میں جیت حاصل کر کے 13 میونسپلٹیوں تک محدود رہی۔ بی جے پی نے 261 وارڈوں میں اور آزاد امیدواروں نے 256 وارڈوں میں کامیابی حاصل کی۔36 میونسپلٹیوں میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث
معلق معلق صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ محبوب نگر ضلع کی وڈّے پلی میونسپلٹی پر آل انڈیا فارورڈ بلاک کا قبضہ ہونا قابلِ ذکر ہے۔ جگتیال میں کانگریس کے سینئر لیڈر جیون ریڈی کے حامیوں نے آزاد امیدواروں کی حیثیت سے مقابلہ کیا اور سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔



