تلنگانہ

اقلیتوں سے وعدہ خلافی؟ شیخ عبداللہ سہیل کا کانگریس پر بڑا حملہ، فنڈس خرچ نہ ہونے کا انکشاف

حیدرآباد، 23 مارچ : بی آر ایس کے سینئر لیڈر شیخ عبداللہ سہیل نے  کانگریس حکومت پر اقلیتی فلاح و بہبود کے معاملے میں معاندانہ رویہ کا الزام عائد کیا ہے

 

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دسمبر 2023 میں اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس نے اقلیتوں کے لیے سالانہ 4,000 کروڑ روپے مختص کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر 2025-26 کے بجٹ میں صرف 3,591 کروڑ اور 2026-27 میں 3,769 کروڑ روپے مختص کئے گئے، جو وعدے سے کم ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار بھی گمراہ کن ہیں کیونکہ ان میں سے ایک حصہ عام اسکیموں جیسے راجیو یووا وکاس پروگرام سے جڑا ہوا ہے، جس میں ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اگر ان مشترکہ فنڈز کو نکال دیا جائے تو اقلیتوں کے لئے اصل رقم کہیں کم رہ جاتی ہے۔

 

سہیل نے کہا کہ گزشتہ سال راجیو یووا وکاس اسکیم کے تحت اقلیتوں کے لیے 1,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے، مگر بے روزگار اقلیتی نوجوانوں کو ایک روپیہ بھی قرض نہیں دیا گیا۔ انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف 10 ہزار سلائی مشینوں کی تقسیم اور چند ہزار نوجوانوں کو اسکل ٹریننگ دینے کا ذکر کرتے ہیں، مگر اصل اخراجات ظاہر نہیں کرتے۔

 

انہوں نے سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024-25 میں 2,150.78 کروڑ روپے کے نظرثانی شدہ تخمینے کے مقابلے میں صرف 793.79 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، یعنی محض 37 فیصد فنڈز ہی استعمال ہوئے، جبکہ 1,357 کروڑ روپے سے زائد کی رقم غیر استعمال شدہ رہ گئی۔

 

سہیل نے کہا کہ اگرچہ بجٹ تخمینے بڑھائے جا رہے ہیں، مگر اصل خرچ میں کمی آ رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس نہ نیت ہے اور نہ ہی صلاحیت کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کر سکے۔

 

انہوں نے طلبہ کو دی جانے والی اسکالرشپس میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور اوورسیز اسکالرشپس کے فنڈس وقت پر جاری نہیں ہو رہے۔ ٹیوشن فیس ری ایمبرسمنٹ کے لئے رقم کو 300 کروڑ سے کم کر کے 100 کروڑ کر دینا اقلیتی طلبہ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

 

انہوں نے تلنگانہ مائنارٹیز ریزیڈینشل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز سوسائٹی (TMREIS) کے لیے مختص فنڈز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بڑی رقم مختص کی جا رہی ہے، مگر انفراسٹرکچر اور ہاسٹل سہولیات اس کے مطابق بہتر نہیں ہو رہیں۔

 

سہیل نے اوورسیز اسکالرشپ کے لیے 130 کروڑ روپے کی غیر تبدیل شدہ رقم اور اسٹڈی سرکلز کے لیے محض 4 کروڑ روپے کو ناکافی قرار دیا۔

 

انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت اپنی مائنارٹی ڈیکلریشن میں کئے گئے وعدے بھی پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، جن میں عبدالکلام تحفہ تعلیم اسکیم، ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ میں اضافہ، شادی مبارک اسکیم میں توسیع اور اقلیتی سب پلان شامل ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اقلیتی اسکیموں کا باقاعدہ جائزہ نہ لینے کے باعث فنڈس کے استعمال میں تاخیر اور نگرانی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

 

شیخ عبداللہ سہیل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقلیتوں کے لیے مختص فنڈز کا مکمل استعمال یقینی بنایا جائے، 4,000 کروڑ روپے کے وعدے کو پورا کیا جائے اور اسکالرشپس کی بروقت ادائیگی کے ساتھ شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو اقلیتی طبقات کے سماجی و معاشی مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button