کانٹے کا مقابلہ – بیالٹ باکس میں بند امیدواروں کی قسمتیں، چند گھنٹوں میں کھلے گا بلدی سیاست کا بڑا راز

تلنگانہ میں بلدی انتخابات کے نتائج کے تعلق سے سیاسی حلقوں اور عوام میں غیر معمولی تجسس اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ مختلف جماعتوں کے امیدوار فی الحال کھل کر کامیابی کا دعویٰ کرنے سے گریزاں ہیں،
کیونکہ بیشتر بلدیات اور میونسپل کارپوریشنوں میں کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان کانٹے کا انتہائی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے سیاسی منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
کئی بلدی علاقوں میں مجلس اتحادالمسلمین کی مؤثر موجودگی نے مقابلے کو سہ رخی بنا دیا ہے، جس کے باعث نتائج کی پیش گوئی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ متعدد وارڈز میں معمولی ووٹوں کا فرق ہی جیت اور شکست کا فیصلہ کرے گا، اسی لیے تمام جماعتیں نتائج کے اعلان تک محتاط اور انتظار کی کیفیت میں ہیں۔
ریاست کی 116 بلدیات اور 7 میونسپل کارپوریشنوں میں 11 فروری کو پولنگ پُرامن طور پر مکمل ہوئی تھی، جبکہ کل جمعہ کو صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی۔ اس طرح چند گھنٹوں میں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ سامنے آنے والا ہے
انتخابی حکام کے مطابق دوپہر تک ابتدائی رجحانات اور بعد ازاں حتمی نتائج سامنے آنے کے قوی امکانات ہیں، جس کے ساتھ ہی کئی سیاسی کیریئرز کا مستقبل بھی طے ہو جائے گا۔
حکام نے گنتی کے مراکز پر سخت سیکورٹی اور جامع انتظامات مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر سیاسی جماعتوں کے دفاتر میں غیر رسمی مشاورتوں اور جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے،
جبکہ عوام اور سیاسی مبصرین کی نظریں بے چینی سے ان نتائج پر مرکوز ہیں جو نہ صرف بلدی اقتدار کا فیصلہ کریں گے بلکہ تلنگانہ کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔



