تلنگانہ

چیف منسٹر ریونت ریڈی کا عادل آباد دورہ، پپری میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد

عادل آباد۔ 6/اپریل (اردو لیکس)ریاستی وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ضلع عادل آباد کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی و جنگلاتی علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور عادل آباد کو ہر میدان میں آگے بڑھایا جائے گا۔ پیر کے روز بازار ہتنور منڈل کے پپری گاؤں میں منعقدہ عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ عادل آباد کو پالامورو کے مساوی ترقی دی جائے گی اور ترقیاتی امور میں سیاست کو دخل نہیں دیا جائے گا۔

 

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ضلع میں تقریباً 1200 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام جاری ہیں جبکہ ضلع نرمل میں 200 کروڑ روپے کی لاگت سے انٹیگریٹڈ اسکول کی منظوری دی گئی ہے۔ خواتین کے لیے مفت بس سفر کی سہولت فراہم کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مد میں حکومت اب تک 10 ہزار کروڑ روپے خرچ کرچکی ہے۔ اندراما ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 22,500 کروڑ روپے خرچ کیے جارہے ہیں تاکہ غریبوں کو اپنے مکانات فراہم کیے جاسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو معیاری چاول فراہم کرنے کا مقصد غریبوں کے گھروں میں خوشحالی لانا ہے، جبکہ خواتین کو بسوں کی ملکیت دینے جیسے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔

 

انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ جون میں ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا اور عادل آباد کو سیاحتی مرکز کے ساتھ ساتھ صنعتی حب کے طور پر بھی ترقی دی جائے گی، جس کے لیے اراضی کے حصول کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ اسی طرح یونیورسٹی کے قیام کے لیے بھی زمین کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ باسرہ مندر کی توسیع کے لیے ابتدائی طور پر 225 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید فنڈس فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دریائے گوداوری کے پانی کو استعمال میں لاکر خطہ کی زمینوں کو زرخیز بنایا جائے گا۔

 

اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا، وزیر جو پلی کرشنا راؤ سمیت دیگر وزراء اور عوامی نمائندے موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کی آمد پر شاندار استقبال کیا گیا۔

 

تقریب کے دوران کئی بڑے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا، جن میں بوتھ حلقہ کے آدیگامہ گاؤں میں 200 کروڑ روپے کی لاگت سے ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ گروکل اسکول، نرمل ضلع کے سرگاپور میں 200 کروڑ روپے سے ریزیڈینشل اسکول کمپلیکس، اور پوچرا گاؤں میں 45.15 کروڑ روپے کی لاگت سے ایڈوانس ٹیکنالوجی سنٹر شامل ہیں۔

 

اسی طرح ناگوبا مندر کی ترقی کے لیے 20.10 کروڑ روپے، عادل آباد میں اقلیتی گرلز ریزیڈینشل اسکول و جونیئر کالج (20 کروڑ)، اور سرکونڈا منڈل کے کونڈاپور گاؤں میں 13.46 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ پل کا افتتاح بھی عمل میں آیا۔ اُتنور میں آئی ٹی ڈی اے عمارت (15 کروڑ)، ایچوڈہ تا دیدرا سڑک (30 کروڑ)، اور جیناتھ میں مہاتما جیوتیبا پھولے بی سی رہائشی اسکول (20 کروڑ) کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

 

عادل آباد میونسپلٹی میں 30 کروڑ روپے کے 38 ترقیاتی کاموں کے علاوہ بجلی کے شعبہ میں دھنور، کوپتی اور کوچلاپور میں 8.99 کروڑ روپے کی لاگت سے سب اسٹیشنز، پپری لفٹ اریگیشن اسکیم (50.70 کروڑ)، تیجاپور لفٹ اسکیم (44.64 کروڑ)، اور متھنور ٹریوینی سنگم اسکیم (65.85 کروڑ) کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

 

مزید برآں لانڈاسانگی پمپ ہاؤس کے قریب چیک ڈیم (6.435 کروڑ)، سرکونڈا میں چکمان واگو پروجیکٹ (31.52 کروڑ)، اور کومرم بھیم آصف آباد ضلع کے کیرامیری منڈل میں امنّا مڈوگو واگو پروجیکٹ کی مرمت (11.76 کروڑ) کے کاموں کا بھی آغاز کیا گیا۔

 

آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا اصل مقصد غریب عوام کی زندگیوں میں خوشحالی لانا اور ان کی آنکھوں میں خوشی دیکھنا ہے، اور اسی مقصد کے تحت ریاست میں ترقیاتی و فلاحی اقدامات جاری رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button