کاماریڈی و نظام آباد بلدی انتخابات میں کانگریس کی واضح جیت ہوگی: محمد علی شبیر
کاماریڈی، 9 فروری: تلنگانہ میں بلدی انتخابات کی مہم کے اختتام پر سینئر کانگریس لیڈر اور سرکاری مشیر محمد علی شبیر نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ کانگریس پارٹی کاماریڈی اور نظام آباد میں واضح اکثریت حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی قیادت اور کارکردگی کے حق میں عوامی لہر مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
پیر کے روز کاماریڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبیر علی نے کہا کہ صرف دو برسوں میں کانگریس حکومت کی نمایاں کارکردگی کے باعث پارٹی کو زبردست عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے واضح فرق محسوس کیا ہے اور زمینی سطح پر ردِعمل غیر معمولی رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے چار دنوں کے دوران کاماریڈی کے 49 میں سے 45 میونسپل وارڈز میں بھرپور انتخابی مہم چلائی اور روزانہ تقریباً 12 وارڈز میں عوامی ملاقاتیں کیں۔
ان کے مطابق جہاں بھی گئے، عوام نے مضبوط حکومت کی خواہش ظاہر کی اور دس برس حکومت کرنے والوں کو مسترد کر دیا جو کچھ فراہم نہ کر سکے، جبکہ منتخب ہونے کے بعد غائب رہنے والوں کو بھی عوام نے قبول نہیں کیا۔
شبیر علی نے کانگریس حکومت کے ابتدائی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 500 روپے ایل پی جی سلنڈر اسکیم، خواتین کے لیے مفت آر ٹی سی بس سفر، 200 یونٹ مفت برقی اور پرانے راشن کارڈز کی بحالی جیسے وعدے پورے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جو کام بی آر ایس دس برس میں نہ کر سکی، وہ کانگریس نے دو برس میں کر دکھایا۔
انہوں نے بتایا کہ کاماریڈی کی ترقی کے لئے 200 کروڑ روپے کے منصوبے پیش کیے گئے جن میں سے کئی کو منظوری مل چکی ہے، جن میں اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں 8 کروڑ روپے کا انڈور اسٹیڈیم، زیرِ زمین برقی سب اسٹیشن اور گوداوری پینے کے پانی کی فراہمی کو 4 ایم ایل ڈی سے بڑھا کر مارچ کے اختتام تک 10 ایم ایل ڈی کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یاد ہے کہ گوداوری کا پانی کاماریڈی تک ان ہی کی کوششوں سے پہنچا۔
مقامی بی جے پی ایم ایل اے رمنا ریڈی کو نشانہ بناتے ہوئے شبیر علی نے ان پر عدم دلچسپی اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کا الزام لگایا، خصوصاً سیلاب کے دوران دئے گئے بیان پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ زیرِ زمین سب اسٹیشن جیسے منظور شدہ منصوبوں میں بھی ایم ایل اے نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور مختلف بہانوں سے تاخیر کی۔
انہوں نے بی آر ایس پر بھی الزام لگایا کہ اس نے ایک دہائی تک عوام کو گمراہ کیا اور تلنگانہ کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق اندرونی جائزوں اور عوامی ردِعمل کی بنیاد پر کانگریس کاماریڈی میں 32 سے 35 وارڈز جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کرے گی اور اکیلے بلدیہ تشکیل دے گی۔
شبیر علی نے پرامن انتخابی ماحول اور کانگریس جلسوں میں عوامی شرکت پر رائے دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سیاسی کامیابی نہیں بلکہ صاف اور ذمہ دار حکمرانی کے لیے عوامی تحریک ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ذات، مذہب یا وقتی لالچ کی سیاست کو مسترد کریں کیونکہ عوام اب حقیقی ترقی چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کی مہم دولت یا نمائشی وعدوں پر نہیں بلکہ اعتماد، کارکردگی اور وژن پر مبنی ہے، اور پچھلی بار بی جے پی کو ووٹ دینے والے بھی اب اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کانگریس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے عوامِ کاماریڈی سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کی حمایت کر کے شہر کو ریاستی تعاون سے ایک مثالی بلدیہ بنانے میں حصہ ڈالیں۔



