تلنگانہ

8 بی جے پی ایم پیز دینے کے باوجود بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ سنگین ناانصافی جاری : کویتا

بی جے پی کے12ویں بجٹ میں بھی تلنگانہ کے حصے میں گول صفر

8 بی جے پی ایم پیز دینے کے باوجود تلنگانہ کے ساتھ سنگین ناانصافی جاری

کیاوزیراعظم مودی کا کوآپریٹیو فیڈرلزم یہی ہے؟

مرکزی بجٹ پر صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا کا شدید رد عمل

 

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے لگاتار بارہویں بجٹ میں بھی تلنگانہ کے حصے میں ایک بار پھر گول صفر ہی آیا ہے۔ انہوں نے مرکزی بجٹ پر سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر رد عمل کا اظہار کیا۔ کویتا نے کہا کہ بی جے پی کا گزشتہ بارہ برسوں سے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی اور دھوکہ دینا عادت بن چکی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر انہوں نے ٹویٹ کے ذریعہ اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی روزانہ کوآپریٹیو فیڈرلزم کی بات کرتے ہیں، مگر عملی طور پر اس کے بالکل برعکس رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے وعدوں سمیت تلنگانہ کے مختلف پروجیکٹس کے لئے جو رقم ملنی تھی، اسے آج تک التوا میں رکھا گیا ہے۔

 

استحکام، نظم و ضبط اور ترقی کے نعرے دینے والی بی جے پی قیادت یہ بتائے کہ تلنگانہ کے معاملہ میں مسلسل امتیازی سلوک کیوں برتا جا رہا ہے۔تلنگانہ نے8 ایم پیز دیئے، بدلے میں ملا گول صفر۔

 

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے بی جے پی کو 8 لوک سبھا اراکین دیئے، مگر بدلے میں ریاست کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ ریاست کو واجب الادا فنڈس دینے کے بجائے صرف التوا شدہ فائلیں تھمائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 34 ہزار 367 کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ریجنل رنگ روڈ، ہائی ویز اور ریڈیئل روڈس کے لئے فنڈز روک دیئے گئے ہیں

 

۔ اسی طرح میٹرو مرحلہ-2 کی توسیع کے لئے مرکز کی جانب سے دیئے جانے والے 50 فیصد فنڈز بھی فراہم نہیں کئے گئے۔کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا کہ نئی ریلوے لائنوں کو منظوری نہیں دی جا رہی ہے

 

اور ورنگل کوچ فیکٹری منصوبے کو بھی التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو ملنے والا آئی آئی ایم، 16 نوودیہ ودیالیہ اور 9 کیندریہ ودیالیہ بھی آج تک منظور نہیں کئے گئے۔ تقسیم ریاست کے ایک اہم وعدے بیارم اسٹیل فیکٹری کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح صنعتی مراعات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کی فہرست بنائی جائے تو وہ بہت طویل ہوگی۔ آخر میں انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم مودی کے کوآپریٹیو فیڈرلزم کا مطلب یہی ہے کہ تلنگانہ کے مفادات کو مسلسل روند دیا جائے۔؟

متعلقہ خبریں

Back to top button