ملازمین کے عام تبادلوں پر پابندی، مردم شماری کی تکمیل تک احکامات نافذ۔
ملک بھر میں جاری ہونے والے مردم شماری (جن گننا) کے عمل کے پیشِ نظر مرکزی وزارتِ داخلہ نے تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ مردم شماری کی تکمیل تک سرکاری ملازمین کے عام تبادلوں پر پابندی عائد کی جائے۔ یہ فیصلہ مردم شماری کے وسیع اور آئینی نوعیت کے کام کو مؤثر انداز میں مکمل کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یکم اپریل 2026 سے ملک گیر سطح پر آبادی کے اعداد و شمار جمع کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ مرکزی حکومت نے مردم شماری کے دونوں مراحل کی تکمیل کے لیے 31 مارچ 2027 تک کی مدت مقرر کی ہے۔ اس دوران مختلف ریاستوں میں بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کو مردم شماری کے فرائض انجام دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور انہیں مرحلہ وار تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
ریاست تلنگانہ میں اس اہم قومی مہم کے لیے 85 ہزار سے زائد ملازمین کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان اہلکاروں کی تربیت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد وہ آئندہ ماہ 11 مئی سے 9 جون تک پہلے مرحلے کے تحت گھر گھر جا کر معلومات جمع کریں گے۔ اس سے تقریباً پندرہ دن قبل، یعنی رواں ماہ کے اختتام سے آن لائن طریقے کے ذریعے خاندانوں کی بنیادی معلومات درج کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
دوسرے مرحلے کے تحت فروری اور مارچ 2027 میں دوبارہ گھر گھر جا کر تفصیلی معلومات کا اندراج کیا جائے گا تاکہ مردم شماری کے اعداد و شمار کو حتمی شکل دی جا سکے۔
مرکزی وزارتِ داخلہ کے سکریٹری گووند موہن کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ مردم شماری ایک آئینی ذمہ داری ہے، اور 1948 اور 1990 میں جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق مردم شماری کی تکمیل تک متعلقہ ملازمین کے تبادلے نہیں کیے جا سکتے۔ اسی تناظر میں ریاستی حکومتوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے طور پر تبادلوں پر پابندی سے متعلق احکامات جاری کریں۔
محکمۂ مردم شماری کے عہدیداران کے مطابق ریاستی حکومت جلد ہی اس سلسلے میں باضابطہ احکامات جاری کرے گی تاکہ مردم شماری کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے بروقت مکمل کیا جا سکے۔
یہ اقدام ملک کی آبادی سے متعلق درست اور جامع معلومات حاصل کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل کی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔



