تلنگانہ بلدی انتخابات کے اگزٹ پول جاری – کانگریس کو سبقت – مجلس کو بادشاہ گر کا موقف

تلنگانہ میں میونسپل انتخابات کی پولنگ کا عمل اختتام پذیر ہوگیا۔ شام پانچ بجے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے باوجود قطاروں میں موجود ووٹروں کو بعد ازاں بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔ پولنگ مکمل ہونے کے ساتھ ہی مختلف ایگزٹ پولس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
’پیپلز پلس‘ ایگزٹ پول سروے کے مطابق ریاست کی 7میونسپل کارپوریشنوں میں منچریال، رام گنڈم، نلگنڈہ، محبوب نگر اور کوتہ گوڑم پر کانگریس کے قبضہ کی پیش قیاسی کی گئی ہے، جبکہ نظام آباد اور کریم نگر بھی کانگریس کے حصے میں جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس میں مجلس کی تائید کی ضرورت ہوگی ۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ بی آر ایس اور بی جے پی کسی بھی کارپوریشن میں کامیابی حاصل نہیں کر پائیں گے۔
اسی طرح 116 میونسپلٹیوں میں کانگریس کو تقریباً 68 تا 76، بی آر ایس کو 29 تا 36، بی جے پی کو 3 تا 5، مجلس کو ایک اور دیگر کو 8 تا 14 میونسپلٹیاں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کارپوریشن وار اندازوں کے مطابق رام گنڈم میں کانگریس کو 30 تا 34، بی آر ایس کو 16 تا 20، بی جے پی کو 3 تا 6 اور دیگر کو 4 تا 7 وارڈ ملنے کا امکان ہے۔ منچریال میں کانگریس کو 39 تا 43، بی آر ایس کو 8 تا 12، بی جے پی کو 6 تا 9 اور دیگر کو 1 تا 2 وارڈ مل سکتے ہیں۔ کوتہ گوڑم میں کانگریس 28 تا 34، بی آر ایس 7 تا 9، سی پی آئی 14 تا 16 اور دیگر 2 تا 4 وارڈ جیت سکتے ہیں۔ محبوب نگر میں کانگریس 26 تا 30، بی آر ایس 18 تا 22، بی جے پی 6 تا 8، ایم آئی ایم 2 تا 4 اور دیگر صفر تا ایک وارڈ حاصل کرسکتے ہیں۔ نلگنڈہ میں کانگریس 21 تا 26، بی آر ایس 8 تا 12، بی جے پی 6 تا 10، ایم آئی ایم 2 تا 4 اور دیگر 1 تا 2 وارڈ جیت سکتے ہیں۔ نظام آباد میں کانگریس 10 تا 16، بی آر ایس 2 تا 4، بی جے پی 26 تا 31، ایم آئی ایم 8 تا 12 اور دیگر 1 تا 2 وارڈ حاصل کرسکتے ہیں۔ کریمنگر میں کانگریس 14 تا 16، بی آر ایس 10 تا 12، بی جے پی 24 تا 29، ایم آئی ایم 6 تا 9 اور دیگر 1 تا 3 وارڈ جیتنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔
ریاست بھر میں چند ایک معمولی واقعات کے سوا پولنگ مجموعی طور پر پرامن رہی۔ ووٹوں کی گنتی 13 تاریخ کو صبح 8 بجے سے 136 مراکز پر شروع ہوگی، جبکہ 16 تاریخ کو میئر، ڈپٹی میئر، میونسپل چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔



