تلنگانہ میں چار بیٹیوں کا باپ احمد پاشاہ انصاف کو ترستا رہا، ڈبل بیڈ روم نہ ملنے پر پہلے تحصیلدار کے پاؤں پکڑے اس کے بعد سیل ٹاور پر چڑھ کر زندگی ختم کرنے کی کوشش کی
تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی کے راجم پیٹ گاؤں میں ایک دل کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک مجبور باپ احمد پاشاہ نے سرکاری بے حسی سے تنگ آ کر اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔
تفصیٖلات کے مطابق احمد پاشاہ نامی شخص، جو اپنی چار معصوم بیٹیوں کے ساتھ کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے، انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ حکومت کی جانب سے غریب خاندان کے لئے دئیے جانے والے ڈبل بیڈ روم کے مکانات میں اس کا نام مستحقین کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود اچانک خارج کر دیا گیا، جس نے اس کی امیدوں کو چکنا چور کر دیا۔
متاثرہ شخص کے مطابق، اس نے تحصیلدار کے سامنے ہاتھ جوڑے، یہاں تک کہ ان کے قدموں میں گر کر رحم کی اپیل کی، مگر اسے مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ آخرکار، جب ہر دروازہ بند نظر آیا تو وہ گرام سبھا کے دوران سیل ٹاور پر چڑھ گیا اور خودکشی کی کوشش کی، جس سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔
احمد پاشاہ کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں درد صاف جھلک رہا تھا، جب وہ اپنی بیٹیوں کے مستقبل کی فکر میں بے بسی کا اظہار کر رہا تھا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک فرد کی داستانِ الم ہے بلکہ اس نظام پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے، جہاں مستحق افراد کو ان کا حق حاصل کرنے کے لیے اپنی جان تک داؤ پر لگانی پڑتی ہے۔



