ادب کی درخشاں آواز خاموش، نوبل نامزد پہلی ہندوستانی شاعرہ راجکماری اندرا دیوی دھن راج گیر کا انتقال

حیدرآباد _ ممتاز شاعرہ، مصورہ اور ادیبہ راجکماری اندرا دیوی دھن راج گیر منگل کے روز حیدرآباد کے گوشہ محل علاقے میں واقع گیان باغ پیالیس میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 96 برس تھی وہ معروف مرحوم شاعر گنٹور شیشندر شرما کی اہلیہ تھیں۔وہ 17 اگست 1930 کو پیدا ہوئی تھیں
راجکماری اندرا دیوی ہمہ جہت ادبی و فنی شخصیت کی حامل تھیں۔ وہ شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ مصورہ اور مصنفہ بھی تھیں۔ ان کی ادبی تربیت پر علامہ اقبال، مرزا غالب اور سری اربندو کی تخلیقات کا گہرا اثر رہا۔ کم عمری ہی سے انہیں فوٹوگرافی سے دلچسپی تھی اور انہوں نے تصاویر کا ذخیرہ بھی جمع کیا۔1964 میں ان کا پہلا شعری مجموعہ The Apostle شائع ہوا، جب کہ 1965 اور 1966 میں ان کی مزید کتابیں منظرِ عام پر آئیں۔ انہوں نے متحدہ آندھرا پردیش ہندی اکیڈمی کی پہلی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں
اندرا دیوی دھن راج گیر ایک اہم شخصیت ہیں جنہوں نے غالب کے فارسی کلام کے منظوم اردو تراجم میں حصہ لیا، خاص طور پر انہوں نے اختر حسن کا تعارف پیش کیا اور اپنی خوبصورت طرزِ تحریر سے اشعار کی خوبی بیان کی، اور یہ کام غالب کے کلام پر تحقیق و ترجمے کے حوالے سے ایک قابل ذکر کوشش ہے
اور بعد ازاں اردو اکیڈمی کی چیئرپرسن بھی رہیں۔1973 میں ورلڈ پوئیٹری سوسائٹی انٹرکانٹینینٹل کے صدر کرشنا سرینواس نے ادب کے نوبل انعام کے لیے ان کے نام کی نامزدگی کی۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والی وہ پہلی ہندوستانی خاتون تھیں۔



