کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ پر لائیسنس منسوخ اور جیل جانا پڑے گا۔ کمشر پولیس حیدرآباد کی وارننگ

کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ معمولی جرم نہیں بلکہ یہ اقدام قتل کے مترادف
کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ پر لائیسنس منسوخ اور جیل جانا پڑے گا
حیدرآباد: کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کے معاملے پر حیدرآباد کے سی پی سجنار نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خوراک میں ملاوٹ کی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
ملاوٹ کو روکنے کے لیے پولیس اور فوڈ سیفٹی حکام کے ساتھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر ایس او پی (معیاری طریقۂ کار) نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بار بار ملاوٹ کے مرتکب پائے جانے والوں کے لائسنس بھی منسوخ کر دیے جائیں گے۔
ضرورت پڑنے پر پی ڈی ایکٹ نافذ کرنے کی بھی وارننگ دی گئی ہے اس ایکٹ کے تحت ملزمین کو گرفتارکرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے ۔ کمشنر پولیس نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ معمولی جرم نہیں بلکہ یہ اقدام قتل کے مترادف ہے
اس لئے اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کوقطعی بخشا نہیں جائے گا۔ دوسری جانب روز بروز خوراکی اشیاء میں ملاوٹ کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر قسم کی غذائی اشیاء میں ملاوٹ کر کے مارکیٹ میں بے دھڑک فروخت کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ بچوں کے پینے والے دودھ میں بھی ملاوٹ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ دودھ میں یوریا جیسے خطرناک کیمیکل ملا کر فروخت کیا جانا تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
ادرک میں کیلے کے چھلکے اور دیگر کیمیکل، مسالوں میں لکڑی کا برادہ، مرچ پاؤڈر میں اینٹوں کا پاؤڈر اور دیگر کیمیائی مادے ملا کر فروخت کرنے کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ اسی طرح جانوروں کی باقیات سے کھانے کا تیل تیار کیے جانے کے واقعات بھی حیدرآباد میں سامنے آئے ہیں۔



