حیدرآباد میں مشہور برانڈ کے آوٹ لیٹ میں بوجھ لگی مٹھائی کی فروخت ۔ پولیس سے شکایت

حیدرآباد: صرف دکان پر جا کر سامان خرید لینا کافی نہیں بلکہ ہر شخص کو ایکسپائری ڈیٹ اور مینوفیکچرنگ ڈیٹ ضرور چیک کرنی چاہیے۔ خاص طور پر بچوں کے لیے خریدی جانے والی ہر کھانے کی چیز کو ایک نہیں بلکہ دو بار جانچ لینا
ضروری ہے۔ ماہرینِ صحت خبردار کر رہے ہیں کہ احتیاط نہ برتنے کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ آج کل ملاوٹ عام ہو چکی ہے۔کئی دکانوں میں میعاد ختم ہونے والی اشیاء فروخت کی جا رہی ہیں جبکہ بعض جگہوں پر تو بغیر
ایکسپائری اور مینوفیکچرنگ ڈیٹ کے سامان بھی کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے۔ تازہ طورپر ایسا ہی ایک واقعہ حیدرآباد میں سامنے آیا ہے۔اطلاعات کے مطابق عطا پور علاقے میں واقع ہلدی رام سویٹ ہاؤس میں ملاوٹ شدہ اور پھپھوندی
یعنی بوجھ لگی مٹھائیاں فروخت کی جا رہی تھیں۔ حال ہی میں دکان پر جانے والے ایک نوجوان نے اس بات کو نوٹس کیا اور خراب مٹھائیوں کی فروخت پر سوال اٹھایا مذکورہ نوجوان قانون کا طالبعلم بتایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ جب اس نے شکایت
کی تو انتظامیہ نے اس کے ساتھ لاپرواہی کا رویہ اختیار کیا جس کے بعد متاثرہ شخص نے پولیس سے رجوع کیا۔پولیس نے بی این ایس قانون کے تحت مختلف دفعات میں مقدمہ درج کر لیا ہے
اور نمونوں کو جانچ کے لیے ایف ایس ایل (فارنسک سائنس لیبارٹری) بھیج دیا ہے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔



