تلنگانہ میں سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی “ریشنلائزیشن” کا وسیع عمل شروع

تلنگانہ میں سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی “ریشنلائزیشن” کا وسیع عمل شروع
حیدرآباد، 3 فروری: تلنگانہ ریاست کے محکمہ تعلیم نے سرکاری اور مقامی سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی ریشَنلائزیشن (دوبارہ منظم کرنے) کے عمل کو دہرانے کا فیصلہ حتمی طور پر کر لیا ہے، جو آئندہ 2026-27 تعلیمی سال سے نافذ العمل ہوگا۔ اس کی منظوری وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے برقرار رکھی ہے اور محکمہ تعلیم جلد اس پر عملی اقدامات شروع کر رہا ہے۔
ریاستی حکام نے بتایا ہے کہ ریشنلائزیشن کا بنیادی مقصد اساتذہ کی قوت کو اُن اسکولوں میں متوازن طور پر ترتیب دینا ہے جہاں طلبہ کی تعداد کے مطابق اساتذہ کی ضرورت موجود ہے۔ جہاں طلبہ کی تعداد کم ہے وہاں اساتذہ کی تعداد نسبتاً زیادہ ہو گئی ہے، جس سے تدریسی وسائل کا عدم توازن دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسی تناظر میں اساتذہ کے تبادلے یا ری شِفٹنگ کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اساتذہ کو وہاں مقرر کیا جا سکے جہاں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔
اس عمل کی بنیاد جی او ایم ایس نمبر 25 پر رکھی گئی ہے، جس کے تحت محکمہ تعلیم نے 2025-26 کے UDISE ڈیٹا کے مطابق اسکولوں میں طلبہ اور اساتذہ کا تجزیہ کیا ہے۔ اس تجزیے کے مطابق بہت سی جگہوں پر استاد اور طالب علم کا تناسب RTE (Right to Education) کے معیار سے زیادہ بہتر ہے، یعنی کم طلبہ پر نسبتاً زیادہ استاد موجود ہیں، جس سے ریشنلائزیشن ایک ضروری اقدام بن گیا ہے۔
ریاست میں سرکاری اسکولوں میں طالب علم-استاد کا موجودہ تناسب تقریباً 15 طلبہ فی استاد ہے، جب کہ RTE قوانین کے مطابق ہر 30 طلبہ پر ایک استاد ہونا چاہیے۔ اسی لیے حکام ریشنلائزیشن کے ذریعے وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں ترتیب دینے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ریشنلائزیشن کا عمل پہلے بھی اس سال ایک مرتبہ کیا گیا تھا، لیکن اب اسے نئی ترجیحات اور مناسب طریقے سے مکمل کرنے کی تیاری ہے۔ امکان ہے کہ اس عمل کے دوران 10,000 سے زائد اساتذہ کی پوسٹیں ختم یا دوبارہ منظم کی جائیں گی، جبکہ سرپلس اساتذہ کی ایڈجسٹمنٹ کا کام بھی تیز کیا جائے گا۔
ریاستی تعلیم حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم انتظامی اور تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کی طرف اٹھایا گیا ہے، تاکہ طلبہ کو بہتر تدریسی ماحول ملے اور اساتذہ کے کام کا بوجھ مناسب طریقے سے تقسیم ہو۔



