گاڑیوں پر "پریس” لکھنے کے معاملہ میں تلنگانہ حکومت کا اہم فیصلہ

حیدرآباد ۔ تلنگانہ ریاست میں گاڑیوں پر ’Press‘ لکھنے کے معاملے میں ریاستی محکمہ اطلاعات و عوامی رابطہ نے ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ اب سے صرف وہی صحافی جن کے پاس حکومت کی طرف سے جاری کردہ اکریڈیٹیشن کارڈس ہوں گے اپنی گاڑیوں پر ’Press‘ لکھ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سرکاری احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ سنٹرل موٹر وہیکل ایکٹ 1989 کے مطابق بغیر اجازت گاڑیوں یا رجسٹریشن نمبر پلیٹس پر ’Press‘ کا لفظ استعمال کرنا قانونی جرم ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسی شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ کئی افراد غلط طریقوں سے اور خانگی اداروں کے شناختی کارڈس کے ذریعے اس لوگو کا استعمال کر رہے ہیں جس کے پیش نظر حکومت نے یہ اقدام کیا ہے۔
محکمہ اطلاعات کے کمشنر کی جانب سے جاری کردہ میمو کے مطابق ریاست بھر کے تمام ضلعی عوامی رابطہ افسران (DPROs) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ان قواعد پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔ جن افراد کے پاس حکومت کی طرف سے جاری کردہ اکریڈیٹیشن کارڈز نہیں ہیں، انہیں فوری طور پر اپنی گاڑیوں سے ’Press‘ لوگو ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
فی الحال کئی میڈیا اداروں میں کام کرنے والے صحافی اپنے اداروں کی جانب سے دیے گئے آئی ڈی کارڈس کی بنیاد پر گاڑیوں پر پریس اسٹیکرز استعمال کر رہے ہیں، تاہم تازہ احکامات کے بعد بغیر اکریڈیٹیشن کے ایسے تمام افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ نقلی صحافیوں پر قابو پانے اور اصل صحافیوں کو باقاعدہ شناخت فراہم کرنے کے مقصد سے لیا ہے۔
قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں پر محکمہ ٹرانسپورٹ اور پولیس کے ذریعے جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔



