تلنگانہ

تلنگانہ میں سرکاری ملازمین کے لئے نئی ہیلت اسکیم 15 دن میں نافذ

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے سرکاری ملازمین، اساتذہ اور وظیفہ یافتہ ملازمین کے لیے نئی ہیلتھ اسکیم کو 15 دنوں کے اندر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سکریٹریٹ میں چیف سکریٹری راماکرشنا راؤ کی صدارت میں ایمپلائیز ہیلتھ کیئر ٹرسٹ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں نئی صحت اسکیم پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 

فیصلہ کیا گیا کہ ملازمین کی بنیادی تنخواہ سے 1.5 فیصد رقم ہیلتھ اسکیم کے لیے وصول کی جائے گی، جبکہ اتنی ہی رقم حکومت بھی ادا کرے گی۔ ٹرسٹ کے اندازے کے مطابق نئی اسکیم کے تحت ملازمین سالانہ 528 کروڑ روپے اور حکومت بھی اپنے حصے کے طور پر 528 کروڑ روپے جمع کرے گی۔

 

محکمۂ صحت کی پرنسپل سکریٹری کرسٹینا نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے نئی ای ایچ ایس کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ایک لاکھ 44 ہزار ملازمین اور پنشنرز کے علاوہ ان کے زیر کفالت افراد کی تعداد 12.84 لاکھ ہے۔

 

ایمپلائیز ہیلتھ کیئر ٹرسٹ میں ملازم تنظیموں کے چھ نمائندے اور پنشنرز کے دو ارکان شامل ہوں گے، جبکہ ریاستی سرکاری ملازمین میں سے ایک شخص کو ٹرسٹ کا سی ای او مقرر کیا جائے گا۔ چیف سکریٹری نے کہا کہ جلد ہی رہنما اصول تیار کئے جائیں گے اور مستقبل کی ضرورتوں کے مطابق ترمیمات بھی کی جائیں گی۔

 

ملازم تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری شعبہ کے اداروں، ماڈل اسکولوں اور گروکل اداروں کے عملے کو بھی اس اسکیم میں شامل کیا جائے۔ اس پر چیف سکریٹری نے کہا کہ اسکیم کے آغاز کے بعد ٹرسٹ میں قرارداد کے ذریعے اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ پڑوسی ریاستوں میں ہنگامی علاج کی صورت میں ای ایچ ایس کے اطلاق کے معاملے پر بھی غور کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button