تلنگانہ

فیس ری ایمبرسمنٹ بقایا جات کے نام پر طلبہ کے سرٹیفکیٹس روکنا غیر قانونی: تلنگانہ ہائی کورٹ

فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایاجات کے بہانے طلبہ کے اصل سرٹیفکیٹس روکنے والے پرائیویٹ کالجوں کے رویے پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیس موصول نہ ہونے کا جواز بنا کر طلبہ کو ہراساں کرنا غیر قانونی ہے اور اس ضمن میں آج ریاستی حکومت کو اہم احکامات جاری کیے گئے۔

 

فیس کی عدم ادائیگی کے نام پر سرٹیفکیٹس نہ دینے والے کالجوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مختلف طلبہ تنظیموں نے ہائی کورٹ میں عرضیاں داخل کی تھیں۔ ان عرضیوں کی سماعت کے دوران عدالت نے اہم ریمارکس دیے۔

 

چیف جسٹس آپریش کمار سنگھ کی سربراہی میں قائم بنچ نے حکومت کو ہدایت دی کہ سرکار کی جانب سے واجب الادا فیس ری ایمبرسمنٹ کی کل رقم کتنی ہے اور یہ رقم کب تک ادا کی جائے گی، اس بارے میں دو ہفتوں کے اندر مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔

 

عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو فیس بقایاجات کے عوض طلبہ کے سرٹیفکیٹس روکنے یا انہیں بطور ضمانت رکھنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ سرٹیفکیٹس روکے جانے سے طلبہ کا مستقبل اور روزگار کے مواقع بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

 

عدالت نے حکومت کے وکیل کو مشورہ دیا کہ پرائیویٹ کالجوں کی جانب سے ہراسانی کا شکار طلبہ کی شکایات کے اندراج اور فوری ازالے کے لیے ایک خصوصی نظام قائم کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button